ہجرت سے وصال تک — Page 103
١٠٣ مال۔مدد تو طاقت قدرت والا خدا کہتا ہے۔آپؐ نے فرمایا تھا کہ خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمزور مسلمانوں کے لئے ضرور خود کوئی راستہ کھول دے گا۔اب میں آپ کو بتاتی ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کیا راستہ کھوں اور کس طرح اُس شرط کو جو بظاہر مسلمانوں کی کمزوری نظر آرہی تھی۔مسلمانوں کی مضبوطی کا باعث بنا دیا۔ابھی آپ کو مدینے واپس تشریف لائے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ ایک مسلمان ابو بصیر مکہ والوں کی قید سے بھاگ کر مدینے پہنچے۔قریش مکہ کے دو آدمی بھی پیچھا کر تے ہوئے آئے اور قیدی کا مطالبہ کیا۔آپ نے معاہدے کی پاسداری فرمائی اور ابو بصیر کو واپس جانے کا ارشاد فرمایا اور اسی انداز میں نسلی دی جیسے ابو جندل کو دی تھی۔ابو بصیر نے اتنے دکھ اُٹھائے تھے کہ وہ واپس مکہ جانے کو اپنی موت سمجھتے تھے۔سکہ کے دو آدمی اُن کی نگرانی کے لئے مقرر تھے اُن میں سے ایک کو موقع پاکر قتل کر دیا اور بھاگ کر واپس مدینے پہنچے مگر جب دیکھا کہ آپ کسی طرح اُنہیں مدینے میں نہیں رہنے دیں گے تو وہاں سے نکل کہ مکہ جانے کی بجائے بحیرہ احمر کے ساحل کی طرف ایک مقام سیف البحر میں رہنے لگے۔جب مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو اس پناہ گاہ کا علم ہوا تو وہ بھی وہاں پہنچنا شروع ہو گئے حتی کہ ان کی تعداد اچھی خاصی ہو گئی اور وہ مکہ والوں کے آنے جانے والے قافلوں پر حملے کرنے لگے اُن کے حملے کا انداز اتنا پرجوش ہوتا کہ قریش مکہ زیادہ عرصہ یہ داشت نہ کر سکے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر سو که خود در خواست