حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 71
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 71 ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے میری امت کے اعمال پیش کئے گئے یہاں تک کہ ایک تنکا جو کوئی آدمی مسجد سے باہر پھینکتا ہے۔پھر میرے سامنے میری امت کے گناہ بھی پیش کئے گئے۔پس میں نے ان تمام گناہوں میں اس سے بڑا گناہ نہیں دیکھا کہ جو قرآن کریم کی کوئی سورت یا آیت یاد کر کے بھلا دینے پر کسی انسان کو ہوتا ہے۔حافظ قرآن رات دن قرآن کے ساتھ قیام کرے تو یا در ہے گا قرآن کریم کو یا درکھنے کا جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کی جائے اور اس کے معانی پر توجہ دی جائے اور اس کی تعلیمات پر کماحقہ عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَكَرَهُ وَإِذَا لَمْ يَقُمُ بِهِ نَسِيَهُ۔(صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الأمر بتعهد القرآن) ترجمہ: صاحب قرآن جب تک قرآن کریم کے ساتھ رات دن قیام کرتا رہے گا تو قرآن کریم اس کو یاد رہے گا لیکن اگر قرآن کریم کے ساتھ قیام نہ کرے تو قرآن کریم کو بھول جائے گا۔قرآن کریم کے سامنے عامل اور غیر عامل قرآن کی پیشی : قرآن کریم کے حافظ اور اس پر عمل کرنے والے خوش قسمت اور نہ عمل کرنے والے بد قسمت قیامت والے دن قرآن کریم کے حوالے کیے جائیں گے اور قرآن کریم ان پر حجت قائم کرے گا اور ایک کو دوزخ میں اور دوسرے کو جنت میں داخل کرے گا۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے حضرت عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: