حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 70 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 70

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات بَيْنِي وَبَيْنَهُ۔70 (جامع الأحكام القرآن للقرطبي، جزء 13، صفحه 28،27) ترجمہ: جس نے بھی قرآن کریم سیکھا اور معلّق صحیفہ کی طرح چھوڑ دیا یعنی نہ تو اس کی تلاوت کی طرف توجہ کی اور نہ اس کو دُہرایا تو قیامت کے دن قرآن کریم اس کے ساتھ چمٹ کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرے گا : اے تمام جہانوں کے رب ! بے شک تیرے اس بندے نے مجھے مہجور کی طرح چھوڑ دیا تھا۔پس تو میرے اور اس کے مابین فیصلہ کردے۔یہ حدیث ہر مسلمان کو عموماً اور حافظ قرآن کو خصوصاً دعوت فکر دے رہی ہے کہ کہیں وہ قرآن کریم کو بھول تو نہیں رہا؟ اس کی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ تو نہیں رہا؟ کیا روزانہ تلاوت کر کے اس کی دہرائی کر رہا ہے؟ اور اگر حافظ قرآن ہے تو کیا روزانہ قرآن کریم کی مقررہ منزل کی دہرائی کر رہا ہے جتنی ایک حافظ قرآن کو کرنی چاہیے؟ ذرا سوچیے اگر حامل قرآن عامل قرآن نہ ہو یعنی نه قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرتا ہو اور نہ ہی اس پر عمل کرتا ہو بلکہ سارا سال قرآن کو چھو کر بھی نہ دیکھے اور اگر سال میں صرف ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آنے پر رسمی طور پر یا کسی مجبوری سے قرآن پڑھ لے تو ایسے حافظ قرآن کو بہت فکر کرنی چاہیے۔قرآن کریم حفظ کے بعد بھلا دینا گناہ کبیرہ ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو یاد کر کے بھلا دینے کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔اس لیے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کر کے اس کی دہرائی کرتے رہنا چاہئے اور اس کو یا در رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ انسان اس گناہ کبیرہ سے بچ سکے۔اس بارہ میں ایک روایت ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اللهُ عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةِ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَ عُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا (ترمذی، کتاب فضائل القرآن باب (19) |