حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 72
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 72 يُمَثَلُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلًا فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ قَدْ حَمَلَهُ فَخَالَفَ أَمْرَهُ فَيُتَمَثَّلُ خَصْمَا لَّهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَمَلْتُهُ إِيَّايَ، فَشَرُّ حَامِلٍ تَعَدَّى حَدُودِي وَضِيْعَ فَرَائِضِي وَرَكِبَ مَعْصِيَتِي وَتَرَكَ طَاعَتِي فَمَا يَزَالُ يَقْذِفُ عَلَيْهِ بِالْحِجَجِ حَتَّى يُقَالُ فَشَأْنُكَ بِهِ فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَمَا يُرَسِلُهُ حَتَّى يَكُبَّهُ عَلَى مَنْخَرِهِ فِي النَّارِ وَيُؤْتَى بِرَجُلٍ صَالِحٍ قَدْ كَانَ حَمَلَهُ وَحَفِظَ أَمْرَهُ فَيُتَمَثَّلُ خَصْمًا لَّهُ دُوْنَهُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ حَمَلْتُهُ إِيَّايَ فَخَيْرُ حَامِلٍ حَفِظَ حَدُوْدِي وَعَمِلَ بِفَرَائِضِي وَاجْتَنَبَ مَعْصِيَتِي وَاتَّبَعَ طَاعَتِي فَمَا يَزَالُ يَقْذِفُ لَهُ بِالْحِجَجِ حَتَّى يُقَالُ شَأْنُكَ بِهِ فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَمَا يُرَسِلُهُ حَتَّى يَلْبِسَهُ حُلَّةَ الْإِسْتَبْرَقِ وَيَعْقِدُ عَلَيْهِ تَاجَ الْمَلِكِ وَيَسْقِيْهِ كَأْسَ الْخَمْرِ (مصنف ابن ابي شيبة كتاب فضائل القرآن باب من قال يشفع القرآن لصاحبه يوم القيامة، جزء6 صفحه (129) | ترجمہ: قیامت کے دن قرآن کریم کو ایک آدمی کی شکل دی جائے گی پھر اس شخص ( حافظ قرآن ) کو لایا جائے گا جس نے اس کو یاد کیا اور قرآن کریم میں مندرج فرائض کو ضائع کیا ہوگا ، اس کی حدود پھلانگی ہوں گی ، اطاعت کی بجائے مخالفت کی ہوگی اور ہمیشہ اس سے متضاد اعمال پر کمر بستہ رہا ہو گا تو اس کے بارہ میں قرآن کریم کہے گا: اے میرے رب ! تو نے میری آیات کو ایسے برے حافظ کے سپرد کیا جس نے میری حدود پھلانگیں ، میرے فرائض کو ضائع کیا ، میری اطاعت ترک کر دی اور معصیت پر کمر بستہ رہا۔اس طرح قرآن کریم اس شخص کے خلاف حجت قائم کرے گا۔حتی کہ قرآن کریم کو ایسے شخص پر اختیار دیا جائے گا اور وہ اس کو پکڑلے گا اور نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اس کو منہ کے بل دوزخ میں پھینک دے۔ایک دوسرے حافظ قرآن کو لایا جائے گا جس نے قرآن کریم کی حدود کی حفاظت کی ہوگی ، اس کے فرائض پر عمل کیا ہوگا، اس کی اطاعت کی ہوگی اور اس کی معصیت سے بچتارہا ہوگا تو قرآن کریم اس