حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 69 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 69

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 69 صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب استذكار القرآن وتعاهده) ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم یاد کرنے والے کی مثال اس اونٹ والے کی طرح ہے جو باندھے ہوئے ہوں۔اگر وہ اس کو باندھے رکھے گا تو روکے رکھے گا اور اگر اس نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ بھاگ جائے گا۔ایک اور روایت میں آنحضرت ﷺ نے اسی قسم کی ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِياً مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا ( مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن مسعود، جزء اول صفحه 423 ) ترجمہ: قرآن کریم کو بار بار دہراؤ کیونکہ یہ بندوں کے سینوں سے اس سے بھی جلدی نکل جاتا ہے جیسے جانور اپنی رہی ہے۔حافظ کے خلاف قرآن کا استغاثہ: جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حافظ قرآن کے لیے خوش خبریاں عطا فرمائی ہیں کہ تلاوت کرنے والے کے حق میں قرآن کریم کھڑا ہو گا اور اس کی شفاعت کرے گا اور اس کی آیات کی تلاوت کے حساب سے اس کے درجات بلند کئے جائیں گے وہاں یہ بھی نصیحت فرمائی ہے کہ اگر اس نے یاد کر کے دُہرائی نہ کی اور بار بار اس کی تلاوت نہ کرتا رہا اور کہیں خدانخواستہ قرآن کریم بھول گیا تو پھر قرآن کریم ہی اس کے خلاف کھڑا ہوگا اور اس کی وجہ سے اس کو سزا ملے گی۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّقَ مَصْحَفَهُ لَمْ يَتَعَاهَدُ وَلَمْ يَنْظُرُ فِيْهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَدِّقًا بِهِ يَقُولُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ إِنْ عَبْدَكَ هَذَا اتَّخَذَنِي مَهْجُورًا فَاقْضِ