حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 44 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 44

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 44 أَذِبُوا أَوْلَادَكُمْ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ حُبِّ نَبِيِّكُمْ وَحُبِّ أَهْلِ بَيْتِهِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّ حَمَلَةَ الْقُرْآنِ فِي ظِلِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلَّهُ مَعَ أَنْبِيَائِهِ وَأَصْفِيَائِهِ (الجامع الصغير للسيوطي ، جلد 1، صفحه 12 ) ترجمہ: اپنی اولاد میں تین صفات پیدا کرو: 1: اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، 2 : اہل بیت کا ادب اور احترام :3 قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی محبت کیونکہ قیامت والے دن کہ جس دن اللہ تعالیٰ کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ باقی نہ رہے گا تو قرآن کریم کے حفاظ اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام اور اصفیاء کے ساتھ ہوں گے۔حضرت امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی تصنیف احیاء العلوم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ : حاملین قرآن یعنی قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے والے حفاظ قیامت والے دن انبیاء کرام علیہم السلام اور برگزیدہ لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سایہ کے نیچے ہوں گے اور اس دن کی تمام تکالیف اور پریشانیوں سے محفوظ ہوں گے۔“ حافظ کی شفاعت سے دس جہنمی اہل خانہ کی نجات : حافظ قرآن کو حفظ کا خود ہی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اس کے عزیز واقارب کو بھی اس کے حفظ کا فائدہ ہوگا۔حفظ کی برکت سے اللہ تعالیٰ قریبی دس رشتہ داروں کی بخشش بھی مقدر کر دے گا۔چنانچہ روایت ہے: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَعَهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ۔(ترمذی ، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل قارئ القرآن ترجمہ:۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم