حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 45
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 45 نے فرمایا: جس نے قرآن کریم کی تلاوت کی اور اس کو حفظ کر لیا، پھر اس پر عمل کرتے ہوئے اس (قرآن کریم ) میں بیان شدہ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کو ( روز قیامت ) اس کے گھر کے ایسے دس افراد کے لئے شفاعت کا حق دیا جائے گا جن کے بارے میں جہنم میں ڈالے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہوگا۔قاری شفاعت کرنے والا اور والدین کے عذاب میں کمی کا باعث : شفاعت کا یہ مضمون قریبی رشتہ داروں کے حلقہ سے نکل کر ہمسایوں تک جا پہنچتا ہے جب ہم یہ حدیث پڑھتے ہیں جس میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ مِائَتَى يَةٍ فِى كُلَّ يَوْمٍ نَظَرًا شَفَّعَ فِي سَبْعِ قَبُوْرٍ حَوْلَ قَبْرِهِ وَخَفَّفَ اللهُ الْعَذَابَ عَنْ وَالِدَيْهِ وَإِنْ كَانَا مُشْرِكِيْنَ۔(كنز العمال، جلد اول، صفحه 538، حديث (2408 | ترجمہ: جو شخص روزانہ قرآن کریم کی دو سو آیات دیکھ کر تلاوت کرے گا اس کی قبر کے اردگرد کی سات قبر والوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اس کے والدین کے سر سے بھی عذاب ہلکا کر دے گا اگر چہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔قرآن کریم حفظ کرنے والا عذاب الہی سے محفوظ رہے گا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو قرآن کریم حفظ کرنے کی ترغیب دلائی اور یہ پابندی نہیں لگائی کہ لازماً سارا قرآن کریم ہی حفظ کرو بلکہ اختیار دیا کہ ہر کوئی اپنی اپنی استطاعت اور استعداد کے مطابق حفظ کرے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو کیونکہ قرآن کریم کو زبانی یاد کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائے گا۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اقْرَأُوْا الْقُرْآنَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ قَلْبًا وَعَى الْقُرْآنَ (سنن الدارمی، کتاب فضائل القرآن ، باب فضل من قرأ القرآن |