حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 43
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 43 ترجمہ:۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قرآن کریم پڑھا اس نے گویا نبوت کے درجات کو اپنے دل اور سینے میں بھر لیا اگر چہ اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی۔پس صاحب قرآن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصہ کرنے والے کے ساتھ غصہ کرے اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ وہ جہالت سے پیش آنے والے کے ساتھ جہالت سے پیش آئے جب کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا کلام موجود ہے۔حفاظ انبیاء اور صحابہ کے جانشین: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کا وہ مقام و مرتبہ بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہو سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنا سابقہ انبیا اور اپنے صحابہ کا جانشین قرار دیا ہے اور امت کو بتایا ہے کہ ان کی اسی طرح عزت کرو جس طرح میری اور میرے صحابہ اور سابقہ انبیا کی عزت اور تو قیر کرتے ہو۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى الْخُلَفَاءِ مِنِى وَمِنْ أَصْحَابِي وَمِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي؟ وَهُمْ حَمَلَهُ الْقُرْآنِ وَالْأَحَادِيْثِ عَنِّى وَعَنْهُمْ فِي اللَّهِ وَلِلَّهِ۔(کنز العمال، جلد 10 صفحه 151، كتاب العلم من قسم الاقوال، باب الاول في الترغيب فيه الفصل الاول في فضائل تلاوة القرآن ترجمہ:۔کیا میں تمہیں اپنے اور مجھ سے پہلے انبیاء کے خلفا اور اپنے صحابہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو محض اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو کر محض اللہ قرآن کریم کو حفظ کرتے ہیں نیز میری، میرے صحابہ اور سابقہ انبیاء علیہم السلام کی احادیث کے حافظ ہیں۔روز قیامت حفاظ سایہ ذوالجلال میں ہوں گے: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک مسلم کو اپنی اولاد میں تین خصائل پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: