حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 42 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 42

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 42 حفاظ کا اکرام اور ان کا بلند مقام: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حفاظ کرام کی عزت اور توقیر قائم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور ان کو ایسے انبیا قرار دیا ہے جن پر شریعت نازل نہیں ہوئی لیکن انہوں نے اس کا بوجھ اٹھا یا ضرور ہے۔چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَكْرِمُوْا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ فَمَنْ أَكْرَمَهُمْ فَقَدْ أَكْرَمَ اللَّهَ أَلَا فَلَا تَنْقِصُوْا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ حُقُوْقَهُمْ فَإِنَّهُمْ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانِ كَادَ حَمَلَةُ الْقُرْآنِ أَنْ يَكُوْنُوا أَنْبِيَاءَ إِلَّا أَنَّهُ لَا يُوْحَى إِلَيْهِمْ (کنز العمال - جلد اول - صفحه 523 - حدیث (2343 ترجمہ:۔حاملین قرآن یعنی حفاظ کی عزت کرو کیونکہ جس نے ان کی عزت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی۔خبردار! حفاظ قرآن کے حقوق میں کمی نہ کرو کیونکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیا کے مقام اور مرتبہ پر فائز ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ان کی طرف وحی نہیں کی جاتی۔حافظ قرآن حامل علوم نبوت : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حافظ قرآن کا بلند مرتبہ بیان فرمایا ، اس کے فضائل بیان فرمائے اور اس کی عزت قائم کرنے کا حکم دیا ہے وہاں حافظ قرآن کو بھی نصائح فرمائی ہیں کہ وہ بھی پھر مخلوق خدا کے ساتھ انبیاء جیسا برتاؤ کرے اور نخوت اور تکبر کو بکلی چھوڑ کر ہر ایک بد عادت سے دست کش ہو جائے اور مخلوق خدا کے ساتھ نرمی ، علم اور محبت سے پیش آئے جو انبیا علیہم السلام کا خاصہ ہے۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَقَدِ اسْتَدْرَجَ النُّبُوَّةَ بَيْنَ جَنْبَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يُوْحَى إِلَيْهِ لَا يَنْبَغِي لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ أَنْ يَحُدَّ مَعَ مَنْ يَحُدُّ وَ لَا يَجْهَلُ مَعَ مَنْ يَّجْهَلُ وَ فِي جَوْفِهِ كَلَامُ اللهِ۔(شعب الإيمان، التاسع عشر باب فی تعظيم القرآن، فصل في التكثر بالقرآن والفرح به)