حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 41 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 41

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات عَادَاهُمْ فَقَدِ اسْتَخَفَّ بِحَقِّ اللَّهِ تَعَالَى۔41 (تفسير القرطبي، جزء اول، صفحه 26) ترجمہ:۔قرآن کریم ہر ایک چیز سے افضل ہے۔پس جس نے قرآن کریم کی عزت کی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کی عزت کی اور جس نے قرآن کریم کی بے قدری کی اس نے گو یا اللہ تعالیٰ کے حق میں کمی کی۔:1 :2 :3 :4 :5 حاملین قرآن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہیں، کلام اللہ کی عظمت قائم کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے نور میں ملبوس ہیں، ان سے دوستی رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں، ان سے دشمنی رکھنے والے بے شک وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حق کی ناقدری کی۔“ حفاظ خدا کے ولی ، ان کا دشمن خدا کا دشمن ،ان کا دوست خدا کا دوست: اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے محبت رکھتا ہے اور حافظ قرآن سے محض اس وجہ سے کہ وہ حافظ قرآن ہے محبت رکھنے والے سے بھی محبت رکھتا ہے اور جو بھی قرآن کریم کے حافظ سے دشمنی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے۔چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حَمَلَةُ الْقُرْآنِ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ فَمَنْ عَادَاهُمْ فَقَدْ عَادَى اللَّهَ وَمَنْ وَّالَاهُمْ فَقَدْ وَالَى الله۔(کنز العمال، كتاب الأذكار من قسم الأقوال الباب السابع في تلاوة القرآن الفصل الأول ترجمہ:۔حفاظ قرآن اللہ تعالیٰ کے اولیا ( دوست ) ہیں۔پس جس نے ان سے دشمنی رکھی اس نے اللہ تعالیٰ سے دشمنی کی اور جس نے ان سے دوستی کی اس نے اللہ تعالیٰ سے دوستی کی۔