حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 199 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 199

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 199 نواسے مجھے حج میں ملے تھے جنہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ انہوں نے ایک مہینہ میں سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا۔“ حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب حضرت چوہدری نصر اللہ خان صاحب کے حفظ قرآن کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ معمولی امر نہیں، اس پیرانہ سالی میں جبکہ دماغ زیادہ محنت برداشت نہیں کرتا، انہوں نے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے قرآن مجید کو حفظ کیا اور یہ ایک روح صداقت تھی جوان کے اندر کام کرتی تھی۔کسی نے ان سے پوچھا تو کہا کہ قانون کی اتنی بڑی کتابیں حفظ کرلیں اور اب تک بہت بڑا حصہ نظائر کا یاد ہے، خدا تعالیٰ کی کتاب کو حفظ نہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔پھر قرآن کریم کو حفظ ہی نہیں کیا اس کی تلاوت با قاعدہ کرتے رہتے تھے اور اس طرح پر ان کی زندگی کا ہر لحظہ خدا تعالیٰ ہی کے لیے ہی ہو گیا تھا۔“ رفقائے احمد جلد 11 - صفحه 162،161) حضرت مولانا شیر علی صاحب حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی اے کے حوالہ سے فرماتے ہیں: حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور الله مرقدہ نے تفسیر قرآن کریم انگریزی کی Introduction میں تحریر فرمایا ہے کہ قرآن شریف کی طر ز عبارت ایسی ہے کہ اس کو آسانی سے یاد کیا جا سکتا ہے اور اپنی جماعت کے تین افراد کی مثالیں تحریر فرمائی ہیں جنہوں نے بڑی عمر میں بہت تھوڑے سے عرصہ میں قرآن شریف کو یاد کیا۔ان سے ایک مثال چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے والد صاحب مرحوم کی ہے۔دوسری صوفی غلام حمد صاحب کی اور تیسری ڈاکٹر بدرالدین صاحب کی ہے۔گزشتہ مشاورت کے موقع پر میں نے صوفی صاحب کو مبارک باد دی تھی کہ آپ کا ذکر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے ترجمۃ القرآن انگریزی کی Introduction میں فرمایا ہے۔صوفی صاحب مرحوم یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور بعد میں فرمایا : ” مجھے خود حضرت