حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 198 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 198

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 198 جماعتی پروگراموں میں حفظ قرآن کریم کے مقابلہ جات: جماعت احمدیہ میں قرآن کریم کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جماعتیں مقامی طور پر بھی اور مرکزی سطح پر بھی اور ذیلی تنظیمیں مقامی سطح پر بھی اور مرکزی سطح پر بھی جتنے مقابلہ جات کرواتی ہیں ان میں تلاوت و حسن قراءت، حفظ قرآن کریم اور دینی معلومات کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔نیز ہر ایک پروگرام اور تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا جاتا ہے۔مرکز سلسلہ میں نظارت تعلیم القرآن کے تحت بھی ہونے والی تعلیم القرآن ٹیچر زٹر میٹنگ کلاسز اور فضل عم تعلیم القرآن کلاسز کے نصاب میں شرکا کو قرآن کریم کے مختلف حصے حفظ کرنے کے لیے دیئے جاتے ہیں پھر ان کا امتحان لیا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ میں سن رسیدگی میں حفظ قرآن کی بعض مثالیں: جماعت احمدیہ میں بہت سے ایسے افراد کی مثالیں بھی ہیں جنہوں نے کسی مدرسہ یا ادارہ سے تو قرآن کریم حفظ نہیں کیا مگر ذاتی شوق سے اور کلام الہی سے محبت کی وجہ سے قرآن کریم خود حفظ کر لیا۔ان میں اکثر افراد نے بڑی عمر میں قرآن کریم یاد کیا۔چند احباب کا ذکر خیر پیش ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ دیبا چ تفسیر القرآن صفحہ 277 میں فرماتے ہیں: دیباچت چه قادیان میں دو ڈاکٹر حافظ ہیں۔اسی طرح اور بہت سے گریجوایٹ اور دوسرے لوگ حافظ ہیں۔جن ڈاکٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نے صرف چار پانچ مہینے میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔چوہدری سر ظفر اللہ صاحب حج فیڈرل کوٹ آف انڈیا ( حال وزیر خارجہ پاکستان ) کے والد صاحب نے اپنی آخری عمر میں جبکہ وہ تقریباً ساٹھ سال کے تھے چند مہینوں میں سارا قرآن حفظ کر لیا تھا۔حافظ غلام محمد صاحب سابق مربی ماریشس نے تین مہینہ میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔نواب جمال الدین خاں صاحب جو ایک سابق والیہ ریاست بھوپال کے خاوند تھے، ان کے ایک