حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 197 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 197

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 197 کی سالانہ تقریب استاد کے موقع پر تکمیل حفظہ کی سند دی جاتی ہے۔طلبا میں تدریسی شوق اور مقابلے کی روح پیدا کرنے کے لئے معیار سے زیادہ حفظ کرنے والوں کو ہر ماہ انعامی وظائف دیے جاتے ہیں جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔معیار کے مطابق 100 روپے، معیار سے زائد حفظ کرنے پر 200 سے 500 روپے تک انعامی وظائف دیے جاتے ہیں۔سال 2007ء سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت مدرستہ الحفظ کے طلباء کو ہر سال "رحمة للعالمین ایوارڈ دیے جانے کی منظوری عنایت فرمائی تھی۔یہ ایوارڈ اول ، دوم اور سوم آنے والے ان طلباء کو نقد رقم کی صورت میں دیا جاتا ہے جنہوں نے دورانِ سال کم عرصہ میں حفظ کیا ہو اور اس کے علاوہ دہرائی ، ابتدائی اور فائنل ٹیسٹ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نمبر حاصل کیسے ہوں۔اول انعام کے لیے مبلغ 25 ہزار روپے، دوم کے لیے مبلغ 15 ہزار روپے، جبکہ سوم کے لیے مبلغ 10 ہزار روپے کی رقم مقرر کی گئی ہے۔حفاظ کرام کا ریکارڈ: خدا تعالیٰ کے فضل سے مارچ 1957 ء سے جون 2000 ء تک 187، جبکہ جولائی 2000ء سے 2009ء تک 264 طلباء نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔اس طرح کل 451 طلباء مدرسۃ الحفظ سے قرآن کریم مکمل حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔(اس سے پہلے کے حفاظ کا معین ریکارڈ معلوم نہیں ہوسکا۔ناقل ) ان حفاظ میں پاکستان اور بیرون پاکستان کے طلبا بھی شامل ہیں۔بیرون ملک سے آنے والے طلباء میں نائیجیریا، غانا، کینیڈا، پنی، یوگنڈا، ماریشس اور سیرالیون سے طلبا حفظ قرآن کی سعادت پاچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو ترقیات سے نوازے۔اس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا کوعلوم قرآن کا حامل اور اس کی تعلیمات پر عامل بنائے۔آمین ماخوذ از روزنامه الفضل 9 دسمبر 2002 صفحه 4،3 / الفضل 13 دسمبر 2007 صفحہ 56،55 / الفضل 2 دسمبر 2010 صفحہ 2)