حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 183
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 183 آمد اور قرآن خوانی سے ساری مجلس بقعہ نور نظر آنے لگتی ہے۔نصف پارہ کے قریب پڑھا جاتا ہے۔اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے تفسیر کی جاتی ہے۔سائلین کے سوالات کے جواب دیے جاتے ہیں۔تقوی و عمل کی تاکید بار بار کی جاتی ہے۔پھر ظہر کے بعد سب لوگ بیت اقصٰی میں جمع ہوتے ہیں۔وہاں حضرت خلیفہ اسیح بھی تشریف لے جاتے ہیں اور صبح کی طرح وہاں پھر درس ہوتا ہے۔بعد عشاء بیت اقصٰی میں حافظ جمال الدین صاحب تراویح میں قرآن شریف سناتے ہیں اور حضرت کے مکان پر حافظ ابواللیث محمد اسماعیل صاحب سناتے ہیں۔غرض اس طرح قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے اور سننے کا ایسا شغل ان ایام میں دن رات رہتا ہے کہ گویا اس مہینہ میں قرآن شریف کا ایک خاص نزول ہوتا ہے۔(تاریخ احمدیت ، جلد۔سوم صفحه (603) حضرت خلیفہ المسیح الاول نور اللہ مرقدہ اور حفظ قرآن کی تحریک: حضرت خلیفتہ المسیح الاول حکیم مولوی نورالدین صاحب نور الله مـــرقــده جنہوں نے اپنے دور خلافت میں جماعت احمدیہ کو تمام تر خطرات سے نکالتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن رکھا، لشکر احمدیت کے یہ فتح نصیب شہسوار اور امام حافظ قرآن بھی تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول 1881ء میں ایک راجہ کے ساتھ ایک شہزادی کی شادی پر تشریف لے گئے۔آپ ہاتھی پر سوار تھے، ایک اسپرنگ کی وجہ سے آپ زخمی ہو گے۔زنم خدا خدا کر کے ٹھیک ہوا تو ایک گھوڑی پر روانہ ہوئے۔لیکن چار میل بعد آگے جانے کی طاقت نہ رہی تو کسی دوست نے پالکی کا انتظام کیا۔آپ اس میں لیٹ گئے اور شکریہ میں قرآن مجید یاد کرنا شروع کر دیا۔ایک مہینے کا سفر تھا۔جب آپ جموں پہنچے تو چودہ پارے حفظ کر چکے تھے باقی بعد میں یاد کئے۔اس طرح آپ کو بھی اپنے بزرگوں کی طرح قرآن شریف زبانی یاد کرنے کی سعادت ملی۔“ (سوانح حضرت خليفة المسيح الاول مصنفه رضیه درد ،صفحه 18 )