حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 182 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 182

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 182 تحصیلدار بندوبست کی آنکھیں اس خط کو دیکھ کر پُر آب ہو گئیں اور اس نے کہا کہ ایمان تو ایسے لوگوں کا ہے۔میں مسل دبار کھتا ہوں۔مولوی صاحب کے آنے پر مہتم بندوبست کے پیش کروں گا۔رفقائے احمد جلد 10 ، صفحه 239) حضرت خلیفتہ المسیح الاول نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں۔شیخ ابن عربی لکھتے ہیں کہ ایک صوفی تھے ، وہ حافظ تھے اور قرآن شریف کو دیکھ کر بڑے غور سے پڑھتے۔ہر حرف پر انگلی رکھتے جاتے اور اتنی اونچی آواز سے پڑھتے کہ دوسرا آدمی سن سکے۔ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ کو تو قرآن شریف خوب آتا ہے پھر آپ کیوں اس اہتمام سے پڑھتے ہیں۔فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میری زبان، کان، آنکھ ، ہاتھ سب خدا کی کتاب کی خدمت کر یں۔““ حقائق الفرقان جلد چهارم صفحه 305) حضرت حافظہ زینب بی بی صاحبہ کے بارہ میں روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے دریافت فرمایا کہ آپ میں کتنی عورتیں حافظ قرآن ہیں؟ اس بات نے آپ پر گہرا اثر کیا۔باوجود یکہ آپ کے چھوٹے چھوٹے تین بچے تھے، زمیندار گھرانہ تھا، آپ نے واپس آکر قرآن کریم حفظ کرنا شروع کر دیا اور پورا قرآن کریم حفظ کر لیا۔(الفضل،5 جولائی 1999 صفحہ 6) حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے خلافت اولیٰ کے وقت 1912ء کے ماہِ رمضان میں اہل قادیان کے قرآن کریم سے عشق اور محبت کا نقشہ یوں کھینچا: قادیان کا رمضان قرآن شریف کے پڑھنے اور سننے کے لحاظ سے ایک خصوصیت رکھتا ہے۔تہجد کے وقت بیت مبارک کی چھت پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔صوفی تصور حسین صاحب خوش الحانی سے قرآن شریف تراویح میں سناتے ہیں۔۔۔۔حضرت خلیفہ اسیح (الاول) جلد اپنے مکان کے صحن میں درس دینے والے ہوتے ہیں۔اس واسطے ہر طرف سے متعلمین درس بڑے اور چھوٹے ، بچے اور بوڑھے پیارا قرآن بغلوں میں دبائے حضرت کے مکان کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔حضرت کے انتظار میں کوئی اپنی روزانہ منزل پڑھ رہا ہے، کوئی کل کے پڑھے ہوئے کو دہرا رہا ہے۔کیا مبارک فجر ہے مؤمنوں کی۔تھوڑی دیر میں حضرت کی