حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 184
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 184 آپ ایک سچے عاشق قرآن تھے۔آپ فرماتے ہیں۔مجھے قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا ہی کی کتاب پسند آئی۔میرا تو اعتقاد ہے کہ اس کتاب کا ایک رکوع انسان کو بادشاہ سے بڑھ کر خوش قسمت بنا دیتا ہے۔اسی طرح فرمایا: میں نے قرآن کریم بہت پڑھا ہے۔اب تو یہ میری غذا ہے۔اگر آٹھ پہر میں خود نہ پڑھوں اور نہ پڑھاؤں اور میرا بیٹا سامنے آ کر نہ پڑھے تو مجھے سکون نہیں ملتا۔سونے سے پہلے وہ آدھ پارہ مجھے سنا دیتا ہے غرض میں قرآن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔وہ میری غذا ہے۔ایک دفعہ آپ قرآن شریف کے درس کے لئے بیت اقصی کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔آپ کو راستے میں اطلاع ملی کہ صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے نے قرآن مجید حفظ کر لیا ہے۔آپ وہیں دوکان کی چٹائی پر سجدہ شکر میں گر گئے۔“ (سوانح حضرت خليفة المسيح الاول مصنفه رضیه درد ، صفحه (34) ایک بار حضرت خلیفہ مسیح الاول نور اللہ مرقدہ نے اپنے بعض خدا کو یہ کام پر فرمایا کہ وہ قرآن مجید کے اسماء افعال اور حروف کی الگ الگ فہرستیں تیار کریں۔اس کا ایک مقصد خدام میں قرآن مجید کی خدمت اور اس پر غور و فکر کی عادت پیدا کرنا تھا۔مولوی ارجمند خان صاحب کا بیان ہے کہ اس تحریک کے سلسلہ میں میرے حصہ میں اٹھارہواں پارہ آیا جو میں نے پیش کر دیا۔ایک بار آپ نے 12 دوستوں کو تحریک فرمائی کہ اڑھائی اڑھائی پارے یاد کر لیں۔اس طرح سب مل کر حافظ قرآن بن جائیں۔(تشی الا زبان، مارچ 1912،جلد 7 صفحہ:101) آپ نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ” مجھے قرآن مجید سے بہت محبت ہے اور بہت محبت ہے۔قرآن مجید میری غذا ہے۔میں سخت کمزور ہوتا ہوں قرآن مجید پڑھتے پڑھتے مجھ میں طاقت آجاتی ہے۔(تاریخ احمدیت، جلد 3، صفحه 558)