حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 10
10 حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات لفظ قرآن میں پیش گوئی: لفظ قرآن کا معنی ہے بار بار اور کثرت سے پڑھی جانے والی کتاب۔یہ بھی ظاہر ہے کہ جو کتاب بار بار پڑھی جائے اس کے پڑھے جانے والے بھی تعداد میں کثرت سے ہوں گے۔پس لفظ قرآن میں آئندہ زمانہ میں کثرت تلاوت کی پیش گوئی کے ساتھ ساتھ اس کے ماننے والوں کے لیے ہدایت اور پیغام بھی ہے کہ وہ اس کو بہ کثرت اور بار بار پڑھیں اور اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔پس به حیثیت اُمت بلا تفریق فرقہ تمام مسلمان بالعموم اور حفاظ قرآن کریم بالخصوص کثرت کے ساتھ اس کی تلاوت کر کے اس ہدایت پر عمل پیرا ہو رہے ہیں۔چونکہ اس وقت دنیا کے ہر خطہ میں مسلمان پائے جاتے ہیں اور ہر جگہ حفاظ موجود ہیں اس لیے ہم بلا مبالغہ دعولی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم پر سورج غروب نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ دنیا میں یہی واحد الہامی کتاب ہے جو اپنی الہامی زبان میں نزول کے وقت سے لے کر اب تک لفظ بہ لفظ محفوظ ہے اور بہ کثرت پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کے ہر طبقہ اور ہر ایک فرقہ میں اس کے جزوی یا مکمل طور پر قاری و حافظ اور تلاوت کرنے والے موجود ہیں۔عربی میں کہاوت ہے کہ الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ کسی کی خوبی یا فضیات کا پتہ اس طرح چلتا ہے کہ اس کے مخالف یا اس کو نہ ماننے والے اس کے بارہ میں کیا رائے رکھتے ہیں۔چنانچہ جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے علما اور ماہرین علوم قرآن کریم کے بارہ میں بہت ہی اچھی رائے رکھتے ہیں۔رقم طراز ہیں: حفظ قرآن کریم کے غیر معمولی تواتر کے بارہ میں ممتاز مستشرق Kenneth Cragg "۔۔۔۔this phenomenon of Qur'anic recital means that the text has traversed the centuries in an unbroken living sequence of devotion۔It cannot, therefore, be handled as an antiquarian thing, nor as a historical document out of a distant past۔The fact of hifz