حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 9
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات فرماتے ہیں: 9 بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام انصاف سے دیکھنا چاہیے کہ مسلمان جس پاک اور کامل کتاب پر ایمان لائے ہیں کس قدر اس مقدس کتاب کو انہوں نے اپنے ضبط میں کر لیا ہے عموماً تمام مسلمان ایک حصہ کثیر قرآن شریف کا حفظ رکھتے ہیں جس کو پنچ وقت مساجد میں نماز کی حالت میں پڑھتے ہیں۔ابھی بچہ پانچ یا چھ برس کا ہوا جو قرآن شریف اس کے آگے رکھا گیا۔لاکھوں آدمی ایسے پاؤ گے جن کو سارا قرآن شریف اوّل سے آخر تک حفظ ہے اگر ایک حرف بھی کسی جگہ سے پوچھو تو اگلی پچھلی عبارتیں سب پڑھ کر سنا دیں اور مردوں پر کیا موقوف ہے ، ہزاروں عورتیں سارا قرآن شریف حفظ رکھتی ہیں۔کسی شہر میں جا کر مساجد و مدارس اسلامیہ میں دیکھو صد ہالڑکوں اور لڑکیوں کو پاؤ گے کہ قرآن شریف آگے رکھے ہیں اور با ترجمہ پڑھ رہے ہیں یا حفظ کر رہے ہیں۔“ (شحنه حق، روحانی خزائن جلد دوم صفحه 332,331) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: مسلمانوں میں حفظ قرآن کی شروع سے اتنی کثرت پائی جاتی ہے کہ ہر زمانہ میں ایک لاکھ سے دولاکھ تک حافظ دنیا میں موجود رہا ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ حافظ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔عام طور پر یورپین مصنف اپنی نا واقعی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائیبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہوسکتا ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے۔۔۔،، (دیباچه تفسیر القرآن صفحه (276 مزید فرماتے ہیں: ”دوسری چیز جس کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ قرآن کریم حفظ کرنا ہے، یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔“ (تقریر فرموده 21 جون 1946ء - مشعل راه جلد اوّل صفحه (469) |