حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 8
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 8 تو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے والا واقعہ پڑھ لیں کہ کس طرح اس پاک کلام کی ظاہری شان اور باطنی شوکت نے ان کو اسلام کا گرویدہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق بنا دیا۔کبار صحابہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے مکہ کی گلیوں سے گزرتے اور کفار مکہ کے ظلم وستم کا شکار ہوتے ، ان کے چہروں پر تھپڑ مارے جاتے ، ان کے چہروں کو چمڑے کے جوتوں سے لہولہان کر دیا جاتا ، وہ بے ہوش ہو جاتے اور جب ہوش میں آتے تو ان کے لبوں پر کراہوں کی جگہ یہ ہوتا کہ قرآن کریم کی محبت میں مارکھانے کا مزا اٹھانے کے لیے ایک بار پھر ہم مکہ کی گلیوں میں جانا چاہتے ہیں۔اسی پارس سے مس ہوئے تو عثمان رضی اللہ عنہ فنی بن گئے اور علی رضی اللہ عنہ حیدر کرار اور شیر خدا بن کر اُبھرے، قرآن کریم سے عشق کی بدولت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مفسرین قرآن بن کر اسلام کے فلک پر چمکے۔قرآن کریم کا سب سے بڑا اعجاز اور عظمت کا سب سے بڑا نشان یہ ٹھہرا کہ رحمان خدا نے اس کو لفظاً لفظاً نازل فرمایا اور درسا در سا اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھایا اور سمجھایا اور اس کی حفاظت کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (الحجر : 10) ترجمہ: ہم ہی اسے نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی ہر قسم کی حفاظت کرنے والے ہیں۔پس قرآن کریم دنیا کی وہ واحد کتاب ہے کہ اگر اس کے تمام کتابی نسخے یک لخت دنیا سے مٹا دیے جائیں تب بھی اس کتاب کو اسی صورت میں ضبط تحریر میں لایا جا سکتا ہے جس طرح یہ نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس کے حفاظ اس دنیا میں کثرت کے ساتھ موجود ہیں اور اسلام کے ہر ایک فرقہ میں ، ہر زمانہ اور ہر صدی میں قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی تعداد موجود رہی ہے جو پوری صحت وصفائی کے ساتھ قرآن کریم کے نقطہ نقطہ اور شعنہ شعشہ کی حافظ وضامن رہی۔الحمدللہ یہ کام ایک قادر و توانا ہستی کے علاوہ کسی کے لیے ممکن نہیں تھا اور نہ ہے۔پس یہ قادر و غالب ہستی اللہ تعالیٰ ہے۔ثم الحمد للہ