حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 7
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 7 حرفِ آغاز نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے پاک وہ جس ایک شاعر کہتا ہے اور کیا ہی خوب کہتا ہے: اجلی نکالا انوار کا دریا نکلا نہ ہو ممتاز کیوں اسلام دنیا بھر کے دینوں میں وہاں مذہب کتابوں میں یہاں قرآن سینوں میں قرآن کریم رُشد و ہدایت کا ایسا سر چشمہ ہے جس نے ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں گمراہ انسانوں کو حق کا سیدھا راستہ دکھایا۔تاریخ عالم گواہ ہے کہ جس دور میں یہ الہی کتاب نازل ہوئی اُس وقت لوگ جاہلا نہ بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر زندگی بسر کر رہے تھے۔دینی حالت تو مفقود تھی ہی عام اخلاق سے بھی عاری یہ لوگ دنیاوی طور پر بھی نہایت پسماندہ اور بہیمانہ طرز زندگی کا سفلی نمونہ تھے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور قرآن کریم کی برکات اور تعلیمات نے ان لوگوں کو مہذب اور متمدن انسان بنادیا یہاں تک کہ جاہل کہلانے والے یہی عرب، دُنیا کے ہر علم کے بانی مبانی اور استاد مانے گئے۔نہ صرف اچھے اور مہذب انسان بلکہ باخدا اور پھر خدا نما انسان بن گئے۔یہ نتیجہ تھا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن کی قوت قدسیہ کا صلی اللہ علیہ وسلم۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی تأثیر کا پوچھیں تو اُس وقت کو یاد کریں جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی مسحور کن آواز میں اپنے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے تو مشرک اور غیر مسلم خواتین اور بچے آپ کی مسحور کن آواز میں یہ پاک اور پُر تاثیر کلام سننے کے لیے جمع ہو جاتے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آیات قرآنی کی تلاوت کرتے اور زار زار روتے ہوئے حیرت سے تکتے اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔یہاں تک کہ سردارانِ قریش کو یہ فکر دامن گیر ہوگئی کہ کہیں یہ لوگ قرآن کریم کی آیات سن سن کر اس نئے دین میں شامل ہی نہ ہو جائیں۔اگر اس کے لفظی و معنوی اعجاز کی بات کریں