حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 157
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 157 اس روایت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑی کہ قرآن کریم ایک تو اتر کے ساتھ حفظ کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک حفاظ کے سینوں میں محفوظ چلا آ رہا ہے اور حفظ قرآن کی مبارک عادت امت محمدیہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر بغیر کسی وقفہ کے اب تک جاری ہے۔ساری دُنیا میں مسلمانوں کی بستیوں میں حافظ قرآن موجود ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے لے کر بلا شبہ اور بلا مبالغہ ہر دور میں ہزاروں ہزار حفاظ موجود رہے ہیں۔حفظ قرآن کے بارہ میں امتِ مسلمہ کی ایک غیر معمولی عادت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ایک ترکیب مسلمانوں نے حفاظت کی یہ اختیار کی ہوئی ہے اور اس پر صدیوں سے عمل ہوتا چلا آیا ہے کہ جو پیدائشی نابینا ہوتے ہیں انہیں قرآن کریم حفظ کروا دیتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ نابینا کوئی دنیاوی کام تو کر نہیں سکتا، کم سے کم وہ قرآن کی خدمت ہی کرے گا۔یہ رواج اتنا غالب ہے کہ لاکھوں مسلمان نابینوں کو بغیر پوچھے اور بغیر دریافت کیے ایک ہندوستانی ملتے ہی حافظ صاحب کے نام سے یاد کرے گا یعنی وہ جس نے سارا قرآن یاد کیا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نابینوں میں سے اتنے حافظ قرآن ہوتے ہیں کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کوئی نا بینا ہو تو قرآن کا حافظ نہ ہو۔“ (دیباچه تفسیر القرآن ، صفحه 277)