حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 158 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 158

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 158 حفظ قرآن کی فضیلت ( غیروں کی نظر میں) الْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ عرب میں کہاوت ہے کہ کسی بھی چیز تحریر یا انسان کی خوبی یا فضیات کا صحیح اندازہ تب ہوتا ہے جب مخالف یا دشمن بھی اس کی فضیات کی گواہی دے۔چنانچہ ذیل میں چند غیر مسلم شخصیات کے تاثرات درج ہیں جن سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے کہ غیر مسلم مستشرقین بھی اس فضیلت کو مانتے ہیں۔Dr۔Maurice Bucaille مذہبی لحاظ سے عیسائی ، ایک فرانسیسی سرجن، مذہب اور سائنس کی دنیا کی ایک نامور شخصیت ہے۔حضرت موسیٰ" کے زمانے میں غرق ہونے والے فرعون ’Meneptah “ پر آپ کو تحقیق کے لیے چنا گیا۔آپ اپنی مشہور کتاب "The Bible, the Qur'an and Science" میں لکھتے ہیں: It (Quranic Revelation) spanned a period of some twenty years and, as soon as it was transmitted to Muhammad by Archangel Gabriel, believers learned it by heart۔It was also written down during Muhammad's life۔(The bible The Qura'n and Science, Translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor, Under Heading Conclusions Pg 250-251) ترجمہ: قرآنی وحی کا دورانیہ تقریباً بیس سال ہے۔جبرائیل (علیہ السلام) جیسے ہی (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس وحی لے کر آتے تو مؤمنین فورا حفظ کر لیتے تھے۔قرآن کریم ( حضرت ) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حیات میں ہی تحریر کر لیا گیا تھا۔