حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 156
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 156 کی فلاح اور کامیابی اور نجات کا سامان سمجھتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات اور ارشادات پر لبیک کہتے ہوئے پر کثرت کے ساتھ صحابہ نے قرآن کریم حفظ کرنا شروع کر دیا۔جنگ یمامہ میں مہاجرین کا جھنڈا حضرت سالم مولی ابی حذیفہ کے ہاتھ میں تھا۔کچھ لوگوں نے کہا ہمیں آپ کے بارے میں اندیشہ ہے کہ میدان جنگ سے آپ پیچھے نہ ہٹ جائیں۔اس پر حضرت سالم نے فرمایا: بِئْسَ حَامِلُ الْقُرْآنِ أَنَا۔یعنی اگر ایسا ہوا تو پھر میں بہت برا حافظ قرآن ہوں گا۔(الاصابة في تمييز الصحابة، ذكر من اسمه (سالم) ابتدائی مؤمنین کا قرآن کریم سے عشق و محبت کا یہ حال تھا کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی حفظ کرنے لگے جن کی علمی حالت ایسی نہ تھی کہ قرآنی مضامین کی گہرائی میں جا کر ان کو سمجھ پاتے۔بچے بھی شوق اور محبت سے حفظ کرتے ، آج بھی بچوں کو شوق اور محبت سے قرآن کریم حفظ کروایا جاتا ہے حالانکہ وہ اس کے ترجمہ اور مفہوم سے بے خبر ہوتے ہیں۔باوجود معنے نہ جاننے کے مسلمانوں کا قرآن کریم کو یاد کرتے چلے جانا بھی یقیناً حفاظت قرآن کے الہی وعدہ کے پورا ہونے کی دلیل ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کر کے صحابہ بھی قرآن کریم کی درس و تدریس اور اس کی تعلیمات کی اشاعت کے لیے کوشاں رہتے۔حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ حضرت ابونصرۃ رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: احْفِظُوْا عَنَّا كَمَا حَفِظْنَا نَحْنُ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(سنن الدارمي، المقدمة، باب من لم ير كتابة الحديث) یعنی ہمارے زیر نگرانی اسی طرح قرآن شریف حفظ کر لو جس طرح ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں حفظ کیا تھا۔