حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 153 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 153

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 153 حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ لڑائیاں تو آئندہ بہت ہوں گی۔اگر اس طرح حفاظ شہید ہوتے گئے تو قرآن مجید کی حفاظت مشکل ہو جائے گی اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ قرآن کریم کو ایک جلد میں جمع کروالیں تا کہ وہ پوری طرح محفوظ ہو جائے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلے تو تامل تھا لیکن آخر کا ر مان گئے۔چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس اہم کام کے لئے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مقرر کر کے فرمایا کہ قرآن کریم تحریری نسخوں سے نقل کر کے جمع کیا جائے اور ہر تحریر کے لئے کم سے کم دو حافظ قرآن صحابہ کی شہادت لازماً اکٹھی کی جائے۔چنانچہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بڑی تحقیق اور احتیاط سے اس کام کو سرانجام دیا۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کام کے محرک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت زید رضی اللہ عنہ کا بہت ساتھ دیا۔اعلان عام کر دیا گیا کہ جس کے پاس مکمل یا قرآن کریم کا کچھ حصہ لکھا ہوا موجود ہو وہ ان کے پاس لے آئے۔یہ دونوں بزرگ حافظ قرآن مجید کو خوب جاننے والے تھے۔ان کے کچھ معاون بھی مقرر تھے۔جب کوئی شخص تحریر پیش کرتا تو یہ اپنے علم کے مطابق اس کا جائزہ لیتے ، دوسری تحریروں سے مقابلہ کرتے ، حفاظ کی ان کے بارہ میں شہادت لیتے اور تحقیق کے سب پہلو مکمل کرنے کے بعد اسے مصحف میں شامل کرتے۔اس طرح زبر دست چھان بین اور غیر معمولی احتیاط کے ساتھ آیات قرانی کو جمع کر کے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق ایک صحیفہ تیار کیا گیا اور قرآن مجید ایک جلد میں جمع ہو گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ' صحابہ کے حفظ قرآن کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حفظ قرآن کی فضیلت پر بڑا زور دیتے تھے۔یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جو شخص قرآن کریم کو حفظ کرلے گا قیامت کے دن قرآن کریم اس کو دوزخ میں جانے سے بچائے گا اور اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وہ صحابی دیئے تھے جو ہر ثواب کے لئے جان توڑ کوشش کرتے تھے اس لئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا تو