حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 154
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 154 کثرت کے ساتھ صحابہ نے قرآن کو یاد کرنا شروع کیا حتی کہ ایسے ایسے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرنے کی کوشش کرتے تھے جن کی زبانیں صاف نہیں تھیں اور جن کے علم بہت کمزور تھے۔چنانچہ امام احمد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قرآن کریم تو پڑھتا ہوں مگر میرا دل اس کو سمجھتا نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف علمی طبقہ ہی قرآن شریف کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کرتا تھا بلکہ عوام الناس بھی قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔“ ایک اور جگہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی مور طلا مرادہ فرماتے ہیں: دیباچه تفسیر القرآن صفحه 270 271) ”اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ قرآن شریف آج تک محفوظ ہے؟ اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ اس کیظاہری حفاظت الکتاب اور قرآن مبین کے دو ذریعوں سے ہوتی ہے جن کا ذکر اس سورت کے شروع ہی میں کیا گیا ہے۔شروع نزول ہی سے اس کی آیات لکھی جانے لگیں اور اس کی حفاظت ہوتی گئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے عشاق عطا کئے جو اس کے ایک ایک لفظ کو حفظ کرتے اور رات دن خود پڑھتے اور دوسروں کو سناتے ہیں۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کسی نہ کسی حصے کا نمازوں میں پڑھنا فرض مقرر کر دیا اور شرط لگا دی کہ کتاب میں سے دیکھ کر نہیں بلکہ یاد سے پڑھا جائے۔اگر کوئی کہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بات سوجھ گئی تھی تو ہم کہتے ہیں کہ یہی بات زرتشت موسیٰ اور وید والوں کو کیوں نہ سوجھی۔۔۔۔۔یہ بھی یادر ہے کہ ایسے آدمیوں کا مہیا کرنا جو ا سے حفظ کرتے اور نمازوں میں پڑھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاقت میں نہ تھا۔ان کا مہیا