حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 152
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 152 اقْرَأَوْا الْقُرْآنَ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ الْمَصَاحِفُ الْمُعَلَّقَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُعَذِّبْ قَلْبًا وَعَى الْقُرْآنَ۔(مصنف ابن ابي شيبة ، كتاب فضائل القرآن باب فى الوصية بالقرآن وقراءته) ترجمہ: قرآن کریم پڑھو۔تمہارے گھروں میں قرآن کریم کے لکھے ہوئے نسخے تمہیں حفظ کرنے سے غافل نہ کر دیں۔یاد رکھو! یقیناً اللہ تعالی اس دل کو کبھی عذاب نہیں دے گا جس میں قرآن کریم محفوظ ہوگا۔اس حدیث سے قرآن شریف کے حفظ مکتوبی اور حفظ صدری دونوں کا پتہ چلتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی بہت سے لوگوں نے پورا قرآن حفظ کر لیا تھا اور کئی ثقہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں پوری احتیاط اور ترتیب سے مکمل صورت میں لکھ بھی لیا تھا جسے دیکھ کر وہ تلاوت کیا کرتے تھے۔تاہم ابھی ایک جلد میں جمع نہیں ہوا تھا بلکہ چمڑے کے باریک ٹکڑوں، پتھر کی سلوں، شانے کی چوڑی ہڈی اور کھجور کی چھپٹی شاخوں پر لکھا ہوا لوگوں کے گھروں میں محفوظ تھا۔کاغذ اس وقت قریباً نایاب تھا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جبکہ قرآن مجید کا نزول مکمل ہو چکا تھا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول نے اسے کمال احتیاط سے اکٹھا لکھوا کر ایک مصحف کی صورت میں محفوظ کر دیا۔اس با برکت کام کی طرف ان کی توجہ اس طرح ہوئی کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے بغاوت کر دی اور ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ مدینہ پر حملہ کے لئے نکلا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلہ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیرہ ہزار سپاہیوں کا لشکر روانہ کیا۔ان میں تین ہزار صحابہ حافظ قرآن تھے اور انہی حفاظ نے انجام کار مسیلمہ کو شکست دی۔اس لڑائی میں پانچ سو حفاظ شہید ہوئے۔ایک وقت میں حافظ قرآن صحابہ کا اتنی تعداد میں شہادت پا جانا معمولی بات نہ تھی۔