حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 130 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 130

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 130 حفظ قرآن کے طریق اور حفاظ کے لیے ضروری نصائح قرآن کریم یا د کر نے کا طریق: قرآن کریم کی جن آیات کو یاد کرنا ہو ان کو پہلے دو تین بار اوپر سے دیکھ کر زیر زبر کے مطابق ٹھیک طرح سے پڑھیں پھر ایک آیت یاد کریں۔جب ایک آیت جب یاد ہو جائے تو اگلی آیت ، پھر اگلی آیت۔ہر نئی آیت یاد کر کے دُہراتے وقت اُس سے پہلی آیت بھی ساتھ دہرائیں۔مثلاً تیسری آیت یاد کریں تو پہلی ، دوسری اور تیسری آیت اکٹھی دہرائیں پھر چوتھی آیت یاد کریں، پھر پہلی سے چوتھی آیت تک دہرائیں اور اس کے بعد اگلی آیت یاد کریں۔حتی کہ ایک نشست میں جتنا حصہ یاد کرنا ہو اسی طریق پر یاد کر کے دہراتے چلے جائیں تا کہ اگلی آیت یاد ہو جائے تو پچھلی بھول نہ جائے۔اس طریق کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آیات کی ترتیب بھی ذہن میں پختہ ہوتی جاتی ہے اور کہیں مغالطہ بھی نہیں لگتا۔حفظ پختہ رکھنے کے لیے یاد کی گئی آیات کو روزانہ دہراتے رہیں ورنہ بھول جائے گا۔روزانہ تھوڑا تھوڑا حفظ کرنا چاہئے اس کے دو فوائد ہوتے ہیں ایک تو دُہرائی میں آسانی ہو جاتی ہے دوسرے دہرائی کر کے پختہ کرنے میں دقت نہیں ہوتی جبکہ ایک نشست میں زیادہ مقدار میں یاد کرنے سے بھول جانے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔جب کوئی شخص حفظ کرنا چاہے تو پوری دل جمعی اور توجہ کے ساتھ کرے اور دھیان مکمل طور پر قرآن کریم کی طرف ہو۔قرآن مجید کو زبانی یاد کرنا مشکل کام نہیں البتہ اس کو یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے۔یاد رکھنے کے لیے مستقل مزاجی لگن، توجہ، محنت شاقہ ، شوق اور جذبہ کی ضرورت ہے۔قرآن کریم کو یاد رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بار بار اور کثرت سے اس کی تلاوت کی جائے اور زبانی دہرائی کی جائے۔