حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 131
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 131 قرآن کریم یا در رکھنے کا بہترین طریق نمازوں اور نوافل میں تلاوت کی کثرت : حافظ قرآن کے لیے قرآن کریم کو یا درکھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ نمازوں میں دھراتا رہے بلکہ با قاعدگی سے روزانہ ترتیب کے ساتھ کسی پارہ سے نمازوں میں تلاوت کرے۔اس کو دستورالعمل بنالیا جائے تو اس سے بہت فائدہ ہوگا اور اس پر اگر مداومت کی جائے گی تو انشاء اللہ قرآن کریم یادر ہے گا اور نماز میں تلاوت کا الگ ثواب بھی حاصل ہوگا۔نوافل میں کثرت سے تلاوت ہمیشہ ہمارے اکابر کا معمول رہا ہے اس لیے اس پر عمل کرنا زیادہ مفید ہے۔حفظ قرآن کریم کو قائم رکھنے کا طریق یہ ہے کہ ایک تو روزانہ پانچ وقت نمازوں میں قرآن کریم کا کچھ حصہ تلاوت کرنے کو لازم پکڑا جائے اور دوسرے نماز تہجد میں قرآن کریم کی زیادہ مقدار میں تلاوت کی جائے۔تلاوت کرتے ہوئے ایک ہی حصہ بار بار تلاوت نہ کیا جائے بلکہ قرآن کریم کے مختلف حصے تلاوت کیے جائیں تاکہ سارا قرآن کریم دہرائی کے عمل سے گزر سکے یعنی مختلف سورتیں یا آیات بدل بدل کر پڑھی جائیں یا ترتیب کے ساتھ ہر رکعت میں پڑھا جائے تو قرآن کریم کو یا درکھنے کا یہ طریق بہت مفید اور با برکت ثابت ہوتا ہے۔حفظ کے لیے فجر کا وقت سب سے زیادہ مفید اور مقبول ہے: قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے صبح سحری کا وقت سب سے زیادہ مفید ہے۔یہ تنہائی اور مکمل خاموشی کا وقت ہوتا ہے۔حافظ قرآن کو چاہیے کہ روزانہ فجر کے وقت قرآن کریم کو یاد کرے اور منزل دہرائے۔سحری کے وقت ذہن فارغ اور طبیعت میں یکسوئی ہوتی ہے۔پس جو حفظ کرنا چاہے تو ایسے وقت حفظ کرے جب اس کا دل اور ذہن کسی اور چیز کی طرف مشغول نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے صبح کے وقت خاص طور پر تلاوت کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا: وَ قُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل، آیت 79) ترجمہ: اور فجر یعنی صبح کے وقت قرآن کریم کو پڑھنا لازم سمجھ اور صبح کے وقت قرآن کریم پڑھنا ایک مقبول عمل ہے۔