حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 114
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 114 9۔ألا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ o (النمل: 27) ترجمہ: (شیطان نے ان کو انگیخت کیا ) کہ وہ اللہ کوسجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔10۔إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (السجدة : 16) ترجمہ: ہماری آیات پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کے ذریعہ انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد اور تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔11۔وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعاً وَأَنَابَ۔(ص:25) ترجمہ: اور داؤد نے سمجھ لیا کہ ہم نے اس کی آزمائش کی تھی۔پس اس نے اپنے رب سے استغفار کیا اور اطاعت کرتے ہوئے (زمین پر ) گر گیا اور (خدا کی طرف) رجوع کرلیا۔12۔فَإِنِ اسْتَكْبَرُوا فَالَّذِيْنَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْتَمُونَ۔(حم السجده: 39 ) ترجمہ: پھر اگر یہ لوگ تکبر کریں تو یا درکھو کہ وہ لوگ جو تیرے رب کے مقرب ہیں وہ رات کو بھی اور دن کو بھی اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔13۔أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ ، وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ o وَأَنتُمْ سَامِدُونَ o فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوان (النجم: 60 تا 63) ترجمہ : کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں تم تو غافل لوگ