حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 112
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 112 ترجمہ: جولوگ تیرے رب کے قریب ہیں، وہ اپنے آپ کو اس کی عبادت سے بالا نہیں سمجھتے۔وہ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اُسی کے حضور سجدے کرتے ہیں۔2۔وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِى السَّمواتِ وَالْاَرْضِ طَوْعاوَ كَرْهًا وَ ظِلَالُهُمْ بِالْغُدُوِّ (الرعد: 16) وَالْأَصَالِ۔ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب اور ان کے اظلال صبح و شام اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں خواہ خوش ہو کر کریں خواہ مجبوری ہے۔3۔وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّالْمَلَئِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ) يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَايُؤْمَرُونَ۔(النحل: 50-51) ترجمہ: جو بھی آسمانوں میں اور زمین میں جاندار ہیں اور فرشتے بھی اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔وہ اپنے بالا مقام رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔4۔وَيَقُوْلُوْنَ سُبُحْنَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُو لا o وَيَخِرُّونَ لِلَاذْقَانَ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعَاه (بنی اسرائیل: 108-110) ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے اور ہمارے رب کا کا وعدہ ضرور پورا ہو گا۔وہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گر جاتے ہیں اور یہ انہیں خشیت اور عاجزی میں مزید بڑھا دیتا ہے۔5۔أَوْلَئِكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ مِّنَ النَّبِيِّنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمُ ايتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا (مريم: 59) ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا اور یہ آدم کی اولاد میں سے نبی تھے اور