حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 2 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 2

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 2 سعادت پاتے رہے۔اپنے اسلاف کی ان اعلیٰ پاکیزہ اور دینی اقدار کی حفاظت کی خاطر بعد کے مسلمان بھی قرآن کریم کو حفظ کرنے میں کوشاں رہے یہاں تک کہ بعض خاندانوں میں یہ سلسلہ نسل در نسل چلا۔دین اسلام میں حفظ قرآن کریم کی بڑی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک مومن مردوزن کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ قرآن کریم کا کوئی نہ کوئی حصہ زبانی یاد کرے کیونکہ روزانہ پانچ نمازوں اور نوافل میں تلاوت کرنے کے لئے سورۂ فاتحہ کے ساتھ ساتھ قرآن کریم میں سے دیگر آیات کی تلاوت بھی ضروری ہوتی ہے۔نماز تہجد کے لیے عام معمول سے کچھ زیادہ قرآن کریم حفظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔قرآن کریم مکمل حفظ کرنے والوں کو بھی اسے یادرکھنے کے لیے مسلسل پڑھنا اور دُہرانا ضروری ہوتا ہے جس کا ایک بہترین طریق یہ ہے کہ نمازوں میں مختلف سورتیں یا آیات بدل بدل کر پڑھی جائیں۔دور حاضر کی مادہ پرستی اور نفسانفسی میں جبکہ انسانیت پر گمراہی اور لادینیت کی یلغار ہو چکی ہے، ضرورت ہے کہ اس الہی کلام سے فیض حاصل کیا جائے ، زیادہ سے زیادہ اس کی تلاوت کی جائے اور اپنی عملی زندگیاں اس کے مطابق بنانے کے لیے اس کے مطالب اور تعلیمات پر غور کیا جائے اور اپنے لیے ایک روشن لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تا کہ زندگی آسان، پر امن اور آراستہ ہو جائے۔اس کتاب کو تالیف کرنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ احباب جماعت میں حفظ قرآن کریم کا شوق اور جذبہ اُجاگر کیا جائے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت کا ہر فرد قرآن کریم کی محبت میں سرشار ہو کر قرآن کریم کا کوئی نہ کوئی حصہ حفظ کر کے اس کی برکات سے فیض یاب ہو اور یاد کیے ہوئے حصوں کو دہراتا بھی رہے۔فی زمانہ ہر ایک احمدی کی یہ ذمہ داری ہے