حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 23 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 23

23 یہ ہے کہ درود شریف میں ہم جن دو بزرگ نبیوں کا نام ایک ساتھ لیتے ہیں۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صل اللہ دونوں کے ساتھ یہ واقعہ ایک ہی طرح گزرا۔دونوں کے والد بچپن میں فوت ہوئے۔دونوں کو ان کے چچاؤں نے پالا اور دونوں کے چچا بت پرست تھے مگر اللہ پاک نے ان کی نگرانی میں پلنے والے بچوں کی خود تربیت کی خود ربوبیت کی اور سب سے بڑے خدائے واحد کے پرستار بنے۔سبحان اللہ بچو! اللہ پاک کی حکمت سے آنحضرت ملالہ کے بچپن ہی سے ایسے واقعات ہوئے جن سے لوگوں کو احساس ہونے لگا کہ یہ بچہ معمولی بچہ نہیں ہے۔ایک دفعہ مکہ میں ایک ایسا شخص آیا جو چہرے دیکھ کر قسمت کا حال بتانے کا ماہر تھا۔سب لوگ شوق شوق سے اپنے بچوں کو لے کر گئے اور اس سے مستقبل کے حالات پوچھے ابو طالب بھی آپ کو لے کر گئے۔اپنے بچوں کو لے کر نہیں گئے۔صرف اپنے بھتیجے کو لے کر گئے۔کیونکہ صاف ظاہر ہو چکا تھا کہ آپ میں کوئی غیر معمولی بات ہے۔اس نجومی نے ایک نظر آپ کو دیکھا پھر کسی کام میں مصروف ہو گیا۔کاموں سے فارغ ہوا اور باقی لوگ چلے گئے تو پوچھنے لگا ایک لڑکا آیا تھا وہ کہاں ہے مجھے جلدی دکھاؤ۔وہ ہونہار ہے۔معلوم ہوتا ہے اس کی شان ظاہر ہو گی۔ابوطالب نے اس قدر دلچسپی دیکھی تو گھبرا گئے کہ کہیں وہ بچے کو زبردستی نہ چھین لے۔دراصل وہ اس لئے اصرار کر رہا تھا کہ آپ کے چہرے پر وہ خاص نور دیکھ چکا تھا۔آپ دس بارہ سال کے تھے تو عرب کے دوسرے بچوں کی طرح بکریاں چرانے کا کام بھی کیا۔“ (پیغام صلح صفحہ 27) اس کی ایک وجہ مصیبت اور یتیمی تھی دوسرے عرب کے بچے اسکول تو جاتے