حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 22 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 22

22 کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے محبت اور پیار سے مجھے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔بعض دفعہ آپ کے چچا بھی موجود ہوتے اور چچا کو رسول کریم صل اللہ سے جو محبت تھی وہ ایسی تھی کہ باپ کی طرح ہی تھی۔اسی وجہ سے بعض دفعہ ابوطالب جب گھر میں آتے اور وہ رسول کریم صل اللہ کو عام بچوں سے الگ ایک طرف کھڑے دیکھتے اور یہ بھی دیکھتے کہ باقی بچے شور کر رہے ہیں اور لڑ جھگڑ کر چیزیں لے رہے ہیں۔مثلاً مٹھائی تقسیم ہو رہی ہے تو ایک کہتا میں مٹھائی کی ڈلی نہیں لوں گا دوسرا کہتا ہے اماں مجھے تو نے کچھ بھی نہیں دیا اسی طرح ہر بچہ اپنا حق جتا کر چیز کا مطالبہ کر رہا ہے اور رسول کریم صل اللہ ایک کونے میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں تو ابوطالب ان کو بازو سے پکڑ لیتے اور کہتے ”میرے بچے تو یہاں کیوں خاموش بیٹھا ہے۔“ پھر وہ آپ کو لا کر اپنی بیوی کے پاس کھڑا کر دیتے اور کہتے تو بھی اپنی چچی سے چمٹ جا اور اس سے مانگ۔مگر رسول کریم صلیاللہ نہ چمٹتے اور نہ کچھ مانگتے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 255-256) وہ کونے میں کھڑے رہتے اور یہ خیال کرتے کہ دنیا میں میرا حصہ ہے ہی نہیں میں اگر مانگوں تو کیوں مانگوں اور اگر مانگوں تو کس سے مانگوں۔پیارے بچو! یہ سب کیفیات اس لئے آپ پر گزریں کہ آپ کو ایک خدا کی ہستی پر ایمان پیدا ہو کہ کس طرح مشکل حالات میں اس نے پرورش کر کے ربوبیت کی شان دیکھا کئے آپ کے قدموں میں ساری دنیا ڈال دی۔مزے کی بات