حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 24 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 24

24 نہیں تھے نہ اُن کی شامیں ٹی وی دیکھتے گزرتی تھیں وہ تیراندازی ، گھڑ سواری جیسی ورزشی کھیلیں کھیلتے اور اپنے ماں باپ کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔اسی طرح جنگلوں میں اپنی بکریاں چرانے بھی لے جاتے۔آپ کے بچپن میں بکریاں چرانے کا ذکر بڑے پر لطف انداز میں ملتا ہے۔ایک دفعہ ایک جنگل سے گزرتے ہوئے صحابہ ایک قسم کی جنگلی بیریوں سے بیر ( پیلو) تو ڑ کر کھانے لگے تو آپ نے فرمایا ” جو خوب سیاہ ہو جاتے ہیں زیادہ مزے کے ہوتے ہیں۔یہ میرا اُس زمانے کا تجربہ ہے جب میں بچپن میں یہاں بکریاں چرایا کرتا تھا۔“ (طبقات ابن سعد جلد اوّل صفحہ 80 ، بخاری شریف کتاب الاجاره) آپ نے معاوضہ لے کر بھی بکریاں چرائیں۔“ ( بخاری کتاب الاجاره ) اس عمر میں آپ کی دوستی حضرت حکیم بن حزام سے تھی۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحہ 626) آپ بارہ سال کے تھے ابوطالب ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔آپ سے یہ جدائی برداشت نہ ہو رہی تھی۔چچا سے لپٹ گئے اور رونے لگے۔ابوطالب سمجھ گئے کہ محبت کی وجہ سے میرا جانا آپ کو اُداس کر رہا ہے۔خود اُن کا دل بھی اُداس ہو رہا تھا۔دراصل اللہ پاک ایسے سامان کر رہا تھا کہ اُس پیارے حضرت محمد صل اللہ کی شان سے زیادہ سے زیادہ لوگ واقف ہوں۔آپ کے پیارے چہرے کو ایک دفعہ دیکھنے والے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ابوطالب آپ کو اپنے ساتھ شام لے گئے۔شام کے جنوب میں ایک گاؤں بھری تھا جب قریش کا قافلہ وہاں پہنچا تو وہاں ایک خانقاہ (صومعہ ) مذہبی عبادت گاہ تھی جس کا راہب ( عیسائی عالم دین) بحیرا نام کا عیسائی تھا۔بحیرا کی نظر