حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 12
12 میں لئے ہوئے خانہ کعبہ آکر اللہ کا شکر ادا کیا اور اعلان کیا کہ عبداللہ مرحوم کے بچے کا نام محمد رکھا گیا ہے۔پھر واپس بچہ ماں کے سپرد کر دیا۔انہیں اس موقع پر اپنا بیٹا عبداللہ بہت یاد آیا۔دنیا میں یوں بھی ہوتا ہے کہ اگر بیٹا فوت ہو گیا ہو تو دادا پوتے پر قبضہ کر لیتا ہے مگر آپ نیک دل انسان تھے۔آپ کے والد کے فوت ہو جانے کے بعد آپ کو آپ کی والدہ کے قبضے میں رہنے دیا اور کہا کہ اس کے باپ کی جگہ مجھے ہی سمجھو۔لیکن اس کی پرورش تم ہی کرو کوئی تکلیف ہو یا کوئی ضرورت ہو تو مجھے بتاؤ۔یہ نہ سمجھنا کہ اس باپ فوت ہو گیا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 216) اس زمانے میں ایک رواج یہ تھا کہ اپنے نوزائیداہ بچوں کو صحراؤں میں آباد قبیلوں میں بھیج دیتے۔تاکہ وہاں کھلی ہوا میں بچے کی صحت اچھی رہے، اچھی عربی زبان سیکھیں۔گفتگو کا سلیقہ آجائے اور صحرائی بد و قبائل سے جفاکشی اور بہادری بھی سیکھ لیں۔گاؤں والے بچے پالنے کا معاوضہ لیتے۔اس طرح ان کی کمائی کا ذریعہ بن جاتا۔آج کل ایسا رواج نہیں ہے۔اس لئے آپ اس بات کو اچھی طرح نہ سمجھ سکیں گے۔آپ نے یہ تو دیکھا ہے کہ جو مائیں ملازمت کرتی ہیں اپنے بچوں کے لئے (Baby Sitter) رکھتی ہیں۔یا ایسے اداروں میں بچے چھوڑتی ہیں۔جہاں ان کی اچھی طرح دیکھ بھال ہو۔شہروں میں تو ہر روز لانے لے جانے کی سہولت ہوتی ہے۔مگر گاؤں وغیرہ میں مشکل ہوتا ہے اور پھر اُس زمانے میں تو سفر کی مشکلات بھی تھیں۔گاؤں سے بچے سال سال یا دو دو سال بعد واپس لائے جاتے تھے۔جس سال صلى الله ہمارے پیارے آقا پیدا ہوئے صحرائی قبائل کی دس شریف عورتیں مکہ آئیں۔ان عورتوں کو یہ تلاش ہوتی کہ امیر گھرانے کا بچہ مل جائے تو پالنے کا زیادہ معاوضہ ملے۔آمنہ کا لال تو یتیم تھا۔یتیم کو پالنے سے کیا ملتا ؟ جب خواتین کو پتہ لگتا کہ