حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 13
13 اس گھر میں بچہ تو ہے مگر یتیم ہے اُسے چھوڑ دیتیں۔صرف ایک خاتون حلیمہ تھیں جن کو امیر گھرانے کا بچہ نہ ملا تو بجائے خالی ہاتھ واپس لوٹنے کے یتیم بچہ ہی لے جانا بہتر سمجھا۔دائی حلیمہ حضرت آمنہ کے گھر آئیں۔ننھا بچہ ابھی ایک ماہ کا تھا۔ایک ماہ تک اپنی ماں کا دودھ پیا تھا۔کچھ دن ابولہب کی آزاد کی ہوئی نوکر ثوبیہ کا دودھ بھی پیا تھا۔دائی حلیمہ نے بچے کو گود میں لینے کی درخواست کی۔حضرت آمنہ نے درخواست قبول کر لی۔اُن کو بخوبی سمجھ تھی کہ اس بچے کو اتنے تذبذب کے بعد کیوں لیا گیا تھا۔اس لئے دائی حلیمہ کی تسلی کیلئے انہیں بتایا کہ دیکھو بظاہر تمہیں یہ بچہ ایک بیوہ عورت کا یتیم بچہ نظر آ رہا ہے مگر یہ معمولی بچہ نہیں ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ بڑی شان والا بچہ ہے پھر بچے کو رخصت کرتے وقت دعا کی۔میں اپنے بچے کو خدائے ذوالجلال کی پناہ میں دیتی ہوں۔اُس شر سے جو پہاڑوں میں پلتا ہے۔یہاں تک کہ میں اسے اونٹ پر سوار دیکھوں اور دیکھ لوں کہ 66 غلاموں اور درماندہ لوگوں کے ساتھ نیک سلوک اور احسان کرنے والا ہے۔“ (رحمۃ اللعالمین صل الله جلد دوم صفحه 103 مؤلف سید سلمان منصور پوری) دائی حلیمہ ایک غریب عورت تھیں۔اس زمانے میں کافی عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خوراک کی چیزوں کی کمی تھی۔گھاس بھی نہیں اُگی تھی۔وہ قبائل جن کا گزارا بھیڑ بکریاں پال کر ہوتا تھا بڑے پریشان تھے۔بکریوں کا دودھ بھی خشک ہو گیا تھا۔خوراک کم ہو تو ماں کا دودھ کم ہو جاتا ہے۔چنانچہ دائی حلیمہ کا جو بیٹا الله عبد اللہ ان دنوں دودھ پیتا تھا وہ بھوکا رہتا تھا۔جب واپسی کا سفر شروع ہوا تو دائی صہ حلیمہ نے اپنے بیٹے عبداللہ اور نے محمد صل للہ کو دودھ پلایا۔دودھ اتنا زیادہ تھا کہ دونوں نے پیٹ بھر کر دودھ پیاوہ حیران رہ گئیں۔پھر وہ اپنی مریل سی گدھی پر سوار ہوئیں تو وہ طاقتور جوان جانور کی طرح اترا اترا کر چلنے لگی اور سب سے آگے نکل گئی۔گھر پہنچیں تو