حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 10 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 10

10 اشاروں اور نشانیوں کے مطابق سمجھ رہے تھے کہ سب سے بڑی شان والے نبی کی پیدائش کا وقت آگیا ہے۔قیصر روم نے ستاروں کو دیکھ کر کہا۔معلوم ہوتا ہے کہ عرب کا نبی پیدا ہونے والا ہے۔عرب میں محمد نام رکھنے کا رواج نہ تھا۔مگر جن کو علم تھا کہ آسمانی کتابوں کے مطابق موعود نبی کا نام محمد ہو گا۔وہ اپنے بچوں کے نام محمد رکھنے لگے۔یہودیوں نے تو نقل مکانی کر کے مکہ کے ارد گرد آباد ہونا شروع کر دیا۔تا کہ موعود نبی آئے تو اس کا فیض حاصل کر سکیں۔ورقہ بن نوفل قریش عرب تھے مگر بُت پرستی سے بیزار ہو کر عیسائی ہو گئے تھے۔ان کا انجیل کا مطالعہ تھا۔بلکہ انہوں نے انجیل کا عبرانی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔انہیں یقین ہو گیا کہ آل قریش میں موعود نبی پیدا ہونے کا وقت آگیا ہے۔وہ عظیم نبی جس کے لئے سارا عرب منتظر تھا جس کا حضرت ابراہیم کی دعاؤں میں وعدہ تھا۔وہ موعود نبی جس کے لئے سارے یہودی منتظر تھے کہ فاران کی چوٹیوں سے ایک نبی بر پا ہو گا۔وہ وجہ تخلیق کائنات نبی جس کے لئے زمین و آسمان چشم براہ تھے۔غرض یہ کہ نور الہی کے مظہر نور محمدی کے جلوہ فرمانے کا بابرکت وقت آ گیا تھا۔12 ربیع الاول، عام الفیل، 20 را پریل 571ء سورج نکلنے سے کچھ پہلے حضرت آمنہ کی گود میں وہ چاند آ گیا۔جس کی بشارتیں انہیں مل رہی تھیں۔تب عرش معلی سے وہ نور کا تخت اُترا اک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی اک ساعت نورانی خورشید سے روشن تر پہلو میں لئے جلوے بے حد و شمار آئی (کلام طاہر ) آپ کی ولادت مکہ کے محلہ سوق الیل، میں ہوئی۔آپ کی دایہ کا نام شفا