سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 8 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 8

13 12 مقام بنالیا اور اپنے تجارتی کاروبار کو جاری رکھا۔مدینہ میں بھی آپ کو بھر پور دینی خدمات کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت مالی وسعت عطا فرمائی اور خدمت دین میں آپ نے بے دریغ خرچ کیا۔کئی موقعوں پر مالی قربانی میں آپ سب صحابہ پر سبقت لے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے نیک کاموں اور دینی خدمات سے بہت خوش ہوتے اور اپنی خوشنودی کا بعض اوقات اظہار فرما دیا کرتے تھے۔حضرت ام کلثوم سے نکاح مکہ سے مدینہ ہجرت کے بعد حضرت عثمان کی بیوی حضرت رقیہ بیمار ہو گئیں۔انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی۔اس دوران قریش مکہ نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے ایک ہزار کا لشکر تیار کیا جو پوری طرح مسلح ہو کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے مکہ سے روانہ ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تین سو تیرہ صحابہ کو ساتھ لے کر اس لشکر کو روکنے کے لیے مدینہ سے باہر نکلے۔بدر کے مقام پر جنگ ہوئی۔حضرت عثمان اپنی بیوی حضرت رقیہ کی بیماری کی وجہ سے اس جنگ میں شریک نہ ہو سکے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں مدینہ رک جانے کا ارشاد فرمایا تھا۔اس جنگ میں مسلمانوں کو معجزانہ طور پر فتح نصیب ہوئی۔ابوجہل اور بڑے بڑے سردارانِ قریش مارے گئے۔مسلمانوں کے لیے یہ بڑی خوشی کا موقع تھا۔جب حضرت زید بن حارثہ میدان جنگ سے فتح بدر کی خبر لے کر مدینہ پہنچے تو اسی روز حضرت رقیہ کا انتقال ہو چکا تھا۔جس کا حضرت عثمان اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو بہت دکھ ہوا۔حضرت عثمان کی عجیب حالت تھی۔ایک طرف آپ کو جنگ بدر میں شامل نہ ہونے کا دکھ اور دوسری طرف حضرت رقیہ کی وفات کا غم تھا۔تا ہم آپ کے جذبہ جہاد کی قدر کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اصحاب بدر میں شامل فرمایا اور مال غنیمت سے حصہ بھی دیا۔حضرت رقیہ کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم کا نکاح آپ سے کر دیا۔آنحضرت کی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کے نتیجہ میں آپ ذوالنورین کے لقب سے مشہور ہو گئے جس کا مطلب ہے دونوروں والا۔حضرت ام کلثوم سے حضرت عثمان کا نکاح ربیع الاول 3 ہجری میں ہوا اور تین ماہ بعد جمادی الآخر میں رخصتی عمل میں آئی۔ان سے آپ کے ہاں کوئی اولا د نہیں ہوئی۔4 ہجری میں حضرت امّم کلثوم کا بھی انتقال ہو گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت عثمان کو بہت زیادہ صدمہ ہوا۔اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اگر کوئی اور بیٹی ہوتی جس کی ابھی شادی نہ ہوئی ہوتی تو میں اس کو بھی عثمان کے عقد میں دے دیتا۔اس کے بعد حضرت عثمان نے مختلف وقتوں میں چار مزید شادیاں کیں۔آپ کی ان بیویوں کے نام یہ بیان کیے جاتے ہیں۔فاختہ بنت غزوان ، بنت عیینہ، رملہ بنت شیبہ اور نائلہ بنت فراضہ۔غلاموں کی آزادی عرب میں قدیم سے غلامی کا رواج تھا۔بڑے بڑے لوگ غریب قوموں کے باشندوں کو خرید لیتے تھے اور پھر وہ غلام بن کر اپنے مالکوں کے رحم وکرم پر ہوتے تھے۔بعض لوگ جنگوں میں دشمنوں کے قیدیوں کو غلام بنا لیتے تھے۔اسلام نے اس کی ممانعت فرمائی اور