سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 9
15 14 غلام آزاد کر نے کو ایک بہت بڑی نیکی قرار دیا۔حضرت عثمان کافی مالدار آدمی تھے۔آپ نے نہ صرف خود غلام آزاد کیسے بلکہ کئی مالکوں کو غلاموں کی قیمت ادا کر کے انہیں آزاد کیا۔چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ آپ نے ہزاروں غلاموں کو آزاد کیا اور مدینہ کی کوئی گلی ایسی نہ تھی جہاں آپ کا خرید کردہ آزاد غلام نظر نہ آئے۔بعد میں اس نیک کام کو جاری رکھنے کے لیے آپ نے یہ معمول بنالیا کہ ہر جمعہ کے روز ایک غلام آزاد کیا کرتے تھے۔مدینہ میں ایک امتیازی خدمت حضرت عثمان کو بعض غیر معمولی مالی خدمات کی سعادت ملی اور اس سعادت میں آپ منفر د نظر آتے ہیں۔ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں پر نہایت تنگی کا زمانہ تھا اور مہاجرین کی آبادکاری میں کئی مشکلات کا سامنا تھا۔چنانچہ بنیادی ضرورتوں میں سے ایک پینے کا پانی تھا جس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی فکر رہتی تھی۔دراصل مدینہ میں جہاں مسلمان آباد ہوئے میٹھے پانی کا صرف ایک ہی کنواں تھا جس کا مالک ایک یہودی تھا۔وہ کنویں کا پانی فروخت کیا کرتا تھا۔جن مسلمانوں کی حالت اچھی تھی وہ تو میٹھا پانی خرید لیتے تھے اور دوسرے کھاری پانی پر گزارہ کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مسلمانوں میں تحریک فرمائی کہ یہودی سے میٹھے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا جائے۔کنویں کو عربی میں بھر کہتے ہیں۔اس کنویں کا نام بستر رومہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بئر رومہ کو خریدے وہ جنتی ہے۔حضرت عثمان بہت رحمدل تھے۔ان سے مسلمانوں کی تنگی دیکھی نہ جاتی تھی۔چنانچہ آپ نے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔اس طرح مہاجرین و انصار کی پینے کے پانی کی تکلیف دور ہوگئی اور آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کی۔آپ نے اس کنویں کی قیمت ہیں ہزار یا بعض کے نزدیک پینتیس ہزار درہم ادا کی۔صلح حدیبیہ میں بطور سفیر خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آجانے کے بعد کفار مکہ بار بارحملہ آور ہوتے رہے اور پانچ چھ سال تک کفار مکہ کی مسلمانوں کے ساتھ کئی جنگیں ہوئیں۔سب سے پہلے جنگ بدر ہوئی جس میں حضرت رقیہ کی بیماری کی وجہ سے حضرت عثمان شامل نہ ہو سکے۔جنگ احد میں حضرت عثمان شامل تھے۔اس کے بعد مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ بھی جنگوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ہجرت کے پانچویں سال قریش مکہ نے عرب کے تمام قبائل کو ساتھ ملا کرفو جیں تیار کیں اور ابوسفیان کو سپہ سالار بنا کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے گرد خندق کھدوا کر دفاع کیا۔یہ مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔حضرت عثمان نے ان سب جنگوں میں حصہ لیا۔اس کے بعد مدینہ کے ایک یہودی قبیلہ کے ساتھ جنگ ہوئی۔اس میں بھی حضرت عثمان شامل تھے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان اور باقی صحابہ کو مدینہ آئے ہوئے چھ سال گذر چکے تھے اور مکہ والوں نے مسلمانوں کا حج بند کیا ہوا تھا۔اس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کو بڑا رنج تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہر دم خانہ کعبہ کی طرف رہتی تھی بلکہ پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے اور مدینہ آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔چنانچہ پانچوں وقت روزانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے مسلمان نماز پڑھتے تھے۔لیکن حج ان کا بند کر دیا گیا تھا۔ان حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ