سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 7
11 10 کے ساتھ ساتھ لکھ لی جائے تو آپ نے اس مقصد کے لیے چند خاص پڑھے لکھے صحابہ کو منتخب فرمایا۔ان میں حضرت عثمان بھی تھے۔چنانچہ حضرت عثمان کاتب وحی کے طور پر خدمت سر انجام دینے لگے اور آخری وقت تک اس خدمت کو جاری رکھا۔اگر چہ مکہ میں سخت مخالفت تھی اور کفار مکہ لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روکتے تھے لیکن پھر بھی بعض لوگ تحقیقات کے لیے باہر سے آتے تھے۔حضرت عثمان کی مالی حالت چونکہ بہت اچھی تھی اور آپ کی بیوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں اس لیے بعض خاص مہمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر ٹھہراتے اور آپ ان کی مہمان نوازی کا خوب حق ادا فر ماتے۔مالی قربانیوں میں حضرت عثمان “بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔قریش مکہ کے کئی غلام اسلام لانے میں سبقت لے گئے۔ان کے ظالم آقا انہیں سخت جسمانی سزائیں دیتے تھے ایسے کئی غلاموں کو صحابہ ان کے مالکوں سے خرید کر آزاد کر دیتے تھے اور اس طرح وہ ان کے مزید ظلم وستم سے بیچ جاتے تھے۔حضرت عثمان نے بھی کئی ایسے غلاموں کی قیمت ادا کرنے کی توفیق پائی۔ہجرت مدینہ مکہ سے مدینہ ہجرت اسلام کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے جہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔مکہ میں مخالفت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے لیے اب مکہ میں رہنا ممکن نہ تھا۔حج پر یثرب کے کچھ لوگوں نے نبوت کے گیارھویں سال میں اسلام قبول کیا۔اگلے سال بارہ مردوں اور عورتوں نے مکہ والوں سے چھپ کر وادی عقبہ میں رات کے وقت بیعت کی۔انہوں نے واپس جا کر خوب تبلیغ کی اور اگلے سال یعنی نبوت کے تیرھویں سال میں 72 مردوں اور دو عورتوں نے حج کے موقع پر اسی جگہ بیعت کی۔بارھویں سال والی بیعت کو عقبہ اولیٰ اور نبوت کے تیرھویں سال ہونے والی بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔یثرب کے مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مکہ کے مسلمانوں کو اپنے پاس آنے کی پیش کش کی جسے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک دو دو کر کے مکہ کے مسلمانوں کو بیٹرب ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔حضرت عثمان بھی اپنی اہلیہ حضرت رقیہ کو ساتھ لے کر مکہ سے مدینہ ہجرت کر گئے۔کفار مکہ کو علم ہوا کہ اکثر مسلمان بیٹرب ہجرت کر گئے ہیں تو انہوں نے تمام قبائل کے نمائندوں کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت مل گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت ابو بکر کو ساتھ لے کر ہجرت کر گئے۔حضور کی آمد سے یثرب کا نام مدینہ النبی مشہور ہو گیا۔یعنی نبی کا شہر اور بعد میں صرف مدینہ رہ گیا۔جولوگ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تھے ان کو مہاجر کہا جاتا ہے اور مدینہ کے مسلمانوں کو جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا، اور آپ کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔انصار کا لفظی مطلب ”مدد کرنے والے“ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین میں محبت و پیار کے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے انصار اور مہاجرین کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔چنانچہ حضرت عثمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انوش بن ثابت انصاری کا بھائی بنایا۔حضرت عثمان معرب کے اس معاشرے میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔اس لیے مدینہ کی سوسائٹی میں بھی آپ نے جلد اپنا