سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 6
8 کے اسلام لانے سے کفار نے تکلیف دینے اور دکھ پہنچانے میں اضافہ کر دیا۔چنانچہ نبوت کے چھٹے سال مجبوراً مزید 83 مرد اور 18 عورتیں ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے۔جب آپ حبشہ ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو آپ ہی امیر قافلہ تھے۔حبشہ میں اپنے مختصر قیام کے دوران آپ کو تبلیغ کی بھی توفیق ملتی رہی۔اس طرح آپ بھی ان چند خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں اسلام کے آغاز میں ہی بیرونِ ملک تبلیغ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اسی دوران حبشہ میں یہ افواہ پھیلی کہ مکہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔چنانچہ یہ خوش خبری سن کر بعض لوگ واپس آگئے۔ان میں حضرت عثمان ، ان کی اہلیہ حضرت رقیہ اور صاحبزادہ عبداللہ بھی شامل تھے۔مکہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ کفار نے جھوٹی افواہ پھیلا ئی تھی تاکہ مسلمان واپس آجائیں اور ان کا تختہ مشق بنیں۔حبشہ سے واپس آکر حضرت عثمان نے مکہ میں رہائش اختیار کر لی اور اپنی خاندانی وجاہت اور قریش میں اپنے امتیازی مقام کے باعث قریش مکہ کے سرداروں نے آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیا اور آپ تجارت اور تبلیغ اسلام میں لگ گئے۔ہجرت مدینہ تک دینی خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوی نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ان تیرہ سالوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو بڑی مشکلات میں سے گزرنا پڑا لیکن مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوت الی اللہ کے کاموں میں وسعت پیدا کرتے رہے اور حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت علی اور اکثر ابتدائی صحابہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اہم کام میں مدد کر تے رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر آپ کا ایمان دن بدن ترقی کر رہا تھا اور آپ دین کی خدمت میں لگ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا تھا۔چنانچہ قرآن مجید کا جتنا حصہ نازل ہوتا تھا اس کو حضرت عثمان سمیت صحابہ حفظ کر لیتے تھے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چونکہ بہت ذہین اور پڑھے لکھے نوجوان تھے اور آپ کا حافظہ بہت عمدہ تھا اس لیے آپ قرآن کریم کو ساتھ ساتھ زبانی یاد کرتے رہے اور اس طرح آپ ابتدائی حافظوں میں شمار ہوتے ہیں۔مکہ میں قیام کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے اردگرد پھیلے ہوئے قبائل میں تشریف لے جاتے اور تجارتی منڈیوں میں یعنی عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز کے مقامات پر پہنچ کر عرب کے مختلف قبائل کو جو وہاں مقررہ مہینوں میں آتے تھے تبلیغ اسلام فرماتے۔حضرت عثمان بھی کئی مرتبہ اپنے آقا کے ساتھ ان تبلیغی سفروں پر تشریف لے جاتے۔حج کے دنوں میں جو لوگ مکہ میں آتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کر خاص طور پر ان کو اسلام کی دعوت دیتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات آپ کو بھی ساتھ رکھتے۔اس کے علاوہ حضرت عثمان کے چونکہ عرب میں کافی لوگوں سے تعلقات تھے اور آپ کا گھرانہ کافی مشہور تھا اس لیے آپ بھی تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور اپنے ملنے جلنے والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاتے۔ان تبلیغی سفروں میں کفار مکہ خاص طور پر ابو جہل اور ابولہب وغیرہ پیچھا کرتے اور مختلف ذلیل حرکات کرتے اور لوگوں سے کہتے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی مجنون ہیں ان کی باتوں میں نہ آنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فیصلہ کیا کہ جو وحی نازل ہوتی ہے وہ یاد کرنے