سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 5 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 5

7 6 کے گلی کوچوں میں اسلام کا چرچا ہونے لگا جس کے نتیجہ میں قریش مکہ نے مخالفت کی اور جولوگ مسلمان ہو چکے تھے ان کو واپس اپنے ماں باپ کے دین بت پرستی میں لانے کے لیے ظلم شروع کر دیا۔غالباً حضرت عثمان کے والد عفان فوت ہو چکے تھے اور آپ کے چچا حکم بن ابی العاص ہی آپ کے لئے باپ کی طرح تھے۔انہوں نے آپ کو خوب مارا پیٹا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روکنے کے لیے آپ کے پاؤں میں بیٹریاں ڈال دیں۔آپ نے صبر و تحمل سے کام لیا اور ان مصائب کی کچھ پرواہ نہ کی۔چند دن بعد آپ کے چچانے غصہ میں آکر آپ کو گھر سے نکال دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں سے سب سے زیادہ مخالفت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چا ابو لہب نے کی اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جانی دشمن بن گیا۔ابولہب کی بیوی ام جمیل بنت حرب بن امیہ بھی اس کے ساتھ شامل تھی۔تھوڑا ہی عرصہ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں، حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثوم کے نکاح ابولہب کے دو بیٹوں سے ہوئے تھے اور رخصتی ہونا ابھی باقی تھی۔ابو لہب اور اس کی بیوی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں اپنے بیٹوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کو طلاق دلوادی۔حضرت عثمان بہت نیک با عزت، خوبصورت اور شریف نوجوان تھے اور اپنے خاندان سے الگ کر دئیے گئے تھے۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی رقیہ کا نکاح حضرت عثمان سے کر دیا۔اسلام لانے سے پہلے بھی آپ نے دوشادیاں کیں۔آپ کی پہلی بیوی کا نام ام عمر و بنت جندب اور دوسری بیوی کا نام فاطمہ بنت ولید تھا۔پہلی بیوی سے آپ کے پانچ بچے اور دوسری میں سے تین بچے پیدا ہوئے۔آپ کے بڑے بچے کا نام عمر و تھا۔اس لئے آپ ابو عمرو کہلاتے تھے۔یہ بیویاں اسلام کے دشمنوں کی اولاد میں سے تھیں۔دوسری بیوی تو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں اور ولید بن مغیرہ مکہ کا بڑا سردار تھا اور ابو جہل کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لانے کے نتیجہ میں حضرت عثمان کو اپنے بیوی بچوں سے الگ کر دیا گیا تھا اور آپ کو ان حالات میں مکہ میں بہت خطرہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سے شادی کے نتیجہ میں ان کے لیے خطرات اور بڑھ گئے۔ہجرت حبشہ مکہ میں دن بدن قریش کے سرداروں کے منصوبوں کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے تکالیف کا سلسلہ بڑھ رہا تھا اور حضرت عثمان کو بھی سخت خطرہ تھا۔ان حالات میں بعض مسلمان مردوں اور عورتوں کو حبشہ ہجرت کی اجازت مل گئی۔حبشہ جسے ایسے سینیا اور ایتھوپیا بھی کہتے ہیں،عیسائی ملک تھا اور وہاں ایک رحمدل عادل بادشاہ حکومت کرتا تھا، جسے نجاشی کہتے تھے۔نجاشی نے اپنے ملک میں مذہبی آزادی دے رکھی تھی۔تجارت کی وجہ سے چونکہ حبشہ کے حالات پہلے سے معلوم تھے اس لیے جن لوگوں کے لیے مکہ میں زیادہ خطرات تھے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔چنانچہ نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینہ میں گیارہ مرد اور چار عورتیں حبشہ ہجرت کر گئے۔ان میں حضرت عثمان اور ان کی بیوی حضرت رقیہ بھی شامل تھیں۔حضرت رقیہ کے بطن سے عبداللہ پیدا ہوئے۔اس لیے حضرت عثمان کی کنیت ابو عمرو کی بجائے ابوعبداللہ ہوگئی۔کہتے ہیں کہ حضرت عثمان کا یہ بیٹا حبشہ میں پیدا ہوا تھا۔مکہ میں کچھ عرصہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا حضرت حمزہ اور حضرت عمر بن خطاب