سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 12 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 12

21 20 امہات المومنین کے لیے رہائشی کمرے بنوائے تھے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت نے رہائش اختیار کی۔جوں جوں اسلام پھیل رہا تھا مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور مسجد نبوی نا کافی ہوگئی تھی۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توسیع کا منصوبہ بنایا اور صحابہ کو تحریک فرمائی کہ مسجد کے اردگرد کے مکانات خرید کر مسجد میں شامل کر لیے جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو جو مسجد نبوی کی توسیع کے لیے ارد گرد کے مکانات خریدنے کے لیے مالی قربانی کرے گا جنت کی بشارت دی۔حضرت عثمان کو مالی وسعت حاصل تھی اور آپ کے اندر مالی قربانی کا جذبہ بہت بڑھا ہوا تھا۔آپ نے فوراً 25-30 ہزار درہم کا انتظام کیا اور مسجد نبوی کے اردگرد کے مکانات اور زمین وغیرہ خرید کر مسجد نبوی میں شامل کر دئیے۔آپ کی اس قربانی اور دینی خدمت کو قیامت تک آنے والی نسلیں یا درکھیں گی۔بعد میں اپنی خلافت کے زمانہ میں آپ نے مسجد نبوی کے فرش اور چھت وغیرہ کو بھی پکا کر وایا۔غزوہ تبوک فتح مکہ کے بعد سارے عرب میں اسلام پھیل گیا اور بعض یہودی قبائل کو پہلے ہی ان کی وعدہ خلافیوں اور سازشوں کی وجہ سے مدینہ سے نکالا جا چکا تھا۔پھر خیبر میں بھی ان کو شکست ہوئی اور وہ قیصر روم کی حکومت میں چلے گئے۔ان کی ریشہ دوانیوں اور کئی اور وجوہات کی بنا پر قیصر روم نے شام کی سرحد پر فوجیں جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم ہوا تو آپ کو بہت تشویش ہوئی کیونکہ ایک تو مدینہ میں قحط پڑا ہوا تھا دوسرے چند ہزار مسلمان لاکھوں کی تعداد میں رومی فوجوں کا مقابلہ کس طرح کر سکتے تھے۔تا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا اعلان فرمایا اور مالی قربانی کی تحریک فرمائی۔اس موقع پر صحابہ نے انتہائی قربانی کا نمونہ پیش کیا اور جس کے پاس جو کچھ تھا اپنی ایمانی کیفیت کے مطابق لے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تھیں ہزار کا لشکر تیار ہو گیا۔اس سے قبل کسی بھی جنگ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اتنا بڑا لشکر تیار نہیں ہوا تھا۔اتنے بڑے لشکر کے لیے کھانے پینے کا سامان اور سواریوں اور جنگی ہتھیاروں کا انتظام کرنا کوئی معمولی کام نہ تھا۔حضرت عثمان نے اس موقع پر ایک ہزار اونٹ جن میں سے سواناج سے لدے ہوئے تھے، سویا پچاس گھوڑے اور دس ہزار دینار نقد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیسے اور فوج کے ایک تہائی کے لیے ہر قسم کی ضروریات پیش فرما ئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان کی اس غیر معمولی قربانی سے اس قدرخوش ہوئے کہ آپ نے فرمایا کہ اب عثمان جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا۔گویا آپ کی انتہائی درجہ کی نیکی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اظہار خوشنودی تھا جس میں یہ اشارہ تھا کہ آپ سے سوائے نیکی کے اور کوئی فعل سرزد نہ ہو گا۔حضرت عثمان خود بھی اس غزوہ میں شامل ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرب کے سرحدی علاقوں میں گئے جو شام کے ساتھ تھے۔جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف سرحدی قبائل کے ساتھ معاہدے کیے اور چونکہ قیصر روم کی فوجوں والا خطرہ ٹل گیا تھا اس لیے واپس تشریف لے آئے اور کوئی جنگ وغیرہ نہ ہوئی۔یہ وہی موقع تھا جب صحابہ نے ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانی پیش کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ حضرت عمر اپنے گھر کا آدھا ساز و سامان لے کر آئے اس خیال سے کہ آج حضرت ابو بکڑ سے بڑھ جاؤں گا اور