سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 13
23 22 جب حضرت ابو بکر آئے تو حضرت عمر اور دوسرے صحابہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ گھر کا سارا سامان لے کر آگئے ہیں اور گھر میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے سوا کچھ چھوڑ کر نہیں آئے۔اس موقع پر بعض اور غریب صحابہ بھی تھے جو چند کھجور میں یا چند درہم لے کر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قربانی کو بھی قبول فرمایا۔کتابت وحی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے حضرت عثمان کو جو خدمات اسلام کے لیے سرانجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں سے ایک نمایاں خدمت قرآن کریم کی کتابت ہے۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کاتب وحی کا کام کیا کرتے تھے۔حضرت ابن عباس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چا زاد بھائی تھے۔وہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آیات اکٹھی نازل ہوتی تھیں تو آپ اپنے کاتبین وحی میں سے کسی کو بلا کر ارشاد فرماتے تھے کہ ان آیات کو فلاں سورت میں فلاں جگہ پر لکھو اور اگر ایک ہی آیت اترتی تھی تو پھر بھی اسی طرح کسی کا تب وحی کو بلا کر اور جگہ بتا کر اسے تحریر کرا دیتے تھے۔کتابت وحی کا کام کئی اور صحابہ بھی کرتے تھے اور ابتداء میں قرآن کریم چمڑے کے ٹکڑوں ، پتھر کی سلوں اور کھجور کی چھال وغیرہ پر متفرق رنگ میں لکھا جاتا تھا۔حضرت عثمان کو کتابت وحی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق آیات اور سورتوں کی ترتیب کا کام کرنے کی خدمت بھی نصیب ہوئی اور یہ سلسلہ سارے قرآن کریم کے نزول اور آخری ترتیب تک جاری رہا۔عہد نبوی میں متفرق خدمات دعوی نبوت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 13 سال مکہ اور دس سال مدینہ میں رہے اور 12 ربیع الاول 11 ہجری کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔حضرت عثمان بھی چونکہ نہایت ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر آپ کو کم و بیش بائیس تئیس سال خدمات کی توفیق ملتی رہی۔غزوہ بدر کے علاوہ حضرت عثمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شامل ہونے کی توفیق ملی سوائے ایک آدھ موقع کے جب خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مدینہ چھوڑ گئے تھے اور آپ شریک نہ ہو سکے۔10 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا جو حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔اس موقع پر حضرت عثمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔حج پر ہزاروں صحابہ کا اجتماع تھا جو تاریخ اسلام میں ایک خاص واقعہ ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کو ہر تحریک اور ہر نیکی میں شامل ہونے کی توفیق ملی اور آپ کی ان عظیم الشان خدمات کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار دینی اور دنیوی نعمتوں سے نوازا۔تین خاص موقعوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی۔وہ مواقع یہ ہیں۔1۔بئر رومہ کی خریداری -2 مسجد نبوی کی توسیع 3۔غزوہ تبوک کے لیے امداد۔آپ کی مالی قربانیوں کے نتیجہ میں آپ کو غنی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔دعوت الی اللہ کے کاموں میں بھی حضرت عثمان کسی سے پیچھے نہ تھے۔ابتدائے اسلام میں ہی آپ نے حبشہ ہجرت فرمائی اور وہاں اپنے مختصر قیام میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔