سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 11
19 18 垲 صلح حدیبیہ کے دو سال بعد اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ رنگ دکھایا کہ 8 ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے ہاتھوں مکہ معجزانہ طور پر فتح ہو گیا جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ قریش مکہ نے صلح حدیبیہ کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے حلیف پر حملہ آور ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ والوں نے مقابلہ کیے بغیر ہتھیار ڈال دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابہ فاتحانہ شان سے مکہ میں داخل ہوئے۔حضرت عثمان بھی ان میں شامل تھے۔یہ غیر معمولی واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی دعاؤں اور قربانیوں کا نتیجہ تھا۔اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقعہ پر عام معافی کا اعلان کر دیا تھا لیکن چند ایک کفار کے اتنے گھناؤنے جرائم تھے کہ ان کے قتل کا حکم تھا۔ان میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بھی تھے جو حضرت عثمان کے رضاعی بھائی تھے۔حضرت عثمان بہت رحمدل تھے۔ان کے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کر کے اپنے رضاعی بھائی کو بچالیا جائے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمة للعالمين تھے اور حضرت عثمان کی قدر کرتے تھے اس لیے حضرت عثمان کے درخواست کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو معاف فرما دیا۔یہ ابتداء میں مسلمان تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی تھے۔بعد میں ان کو ٹھوکرلگی اور اسلام سے منحرف ہو گئے اور بعض سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے۔پیارے بچو! اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ دعا سکھائی ہے۔رَبَّنَا لَا تُزِعُ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْهَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ - یعنی۔اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے بعد اس کے کہ تو ہمیں ہدایت دے چکا ہو۔اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔یقینا تو ہی ہے جو بہت عطا کرنے والا ہے۔ہم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کثرت سے کرنی چاہیے۔چنانچہ فتح مکہ پر معافی کے نتیجے میں تو بہ کر کے پھر مسلمان ہو گئے۔حضرت عثمان جب خلیفہ ہوئے تو آپ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر کا گورنر مقرر کیا۔فتح مکہ کے نتیجہ میں بڑے بڑے سرداران قریش بھی اسلام میں داخل ہوئے جو حضرت عثمان کے خاندان میں سے تھے۔چنانچہ ابوسفیان نے اسی موقعہ پر اسلام قبول کیا۔صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے دوران مکہ کے دو بہت بڑے سرداروں کے بیٹے اسلام میں داخل ہوئے جنھوں نے بعد میں قیصر و کسری کو شکست دی اور شام اور عراق اور مصر فتح کیا۔ان میں خالد بن ولید سر فہرست ہیں۔ان کے علاوہ عاص بن وائل کے بیٹے عمرو بن العاص بھی قابل ذکر ہیں جو حضرت عثمان کے چازاد بھائی تھے۔فتح مکہ کے موقعہ پر ابو جہل جیسے سخت ترین دشمن کا بیٹا عکرمہ بھی اسلام میں داخل ہوا۔گویا صلح حدیبیہ اور فتح مکہ نے ایک انقلاب پیدا کر دیا۔مسجد نبوی کی توسیع ہجرت مدینہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ساتھ وقار عمل کر کے مسجد تعمیر فرمائی تھی جو مسجد نبوی کہلاتی ہے۔اس مسجد کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے