حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 67
تھے اس لئے آپ کی بات حکام میں بھی مانی جاتی تھی حاکم نے جواب دیا کہ میں تو اس کو روکنے کی کوشش کروں گا لیکن امید نہیں کہ وہ میری بات پر عمل کرے اور اپنی حرکتوں سے باز آوے اور یہ بھی اندیشہ ہے کہ ان کے مرید بہت بڑی تعداد میں ہیں اور ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں ایسا نہ ہو کہ فساد ہو جاوے۔ادھر یہ جواب دیا۔ادھر ایک سرکاری آدمی کے ہاتھ اس مولوی کے نام ایک سمن بھیجا کہ مولوی الہ دین یہاں آکر شریعت کے احکام کا فیصلہ کرے بعد فیصلہ کے ان احکام کو بے شک جاری کرے اگر بچے ہوں۔ورنہ جھوٹے مسائل سے رک جاوے۔جب یہ حکم مولوی مذکور کے پاس پہنچا تو اس نے جواب دیا کہ سب ان مسائل سے خوب واقف ہوں مجھے کیا ضرورت ہے کہ ان کو طے کروں۔تب وہ سرکاری آدمی واپس حاکم کے پاس لوٹ آیا اور حاکم کو اس کے انکار کی خبر دی۔حاکم نے امیر عبدالرحمن خان کو رپورٹ کی کہ ایک مولوی جھوٹے مسائل بیان کرتا ہے اور اس سے فساد کا اندیشہ ہے۔حضور اس باب میں کیا حکم فرماتے ہیں۔امیر نے جواب دیا کہ اس مولوی کو یہاں بھیج دوا گر انکار کرے تو زبر دستی پا بز نجیر جلد روانہ کر دو۔چونکہ اس مولوی کے بہت لوگ پیرو تھے اس لئے حاکم نے اپنی فوج کا شکار کے بہانے سے روانہ کیا۔جب شکار کر کے واپس آنے لگے تو فوج کے بعض افسروں نے عرض کیا کہ اس گاؤں میں جو مولوی ہے اس کے گھر میں ٹھہرنا چاہئے وہ بڑا بزرگ اور اچھا آدمی ہے۔حاکم کا تو پہلے ہی سے اسے پکڑنے کا ارادہ تھا مگر یہ ارادہ افسروں وغیرہ سے پوشیدہ تھا اس لئے بظاہر حاکم نے انکار کیا اور کہا کہ وہ فقیر آدمی ہے اسے کیا تکلیف دیں۔آخر افسروں کے اصرار سے حاکم نے اس کے گھر کا راستہ لیا اور پہنچنے پر اس کے مکان کو گھیر نے کا حکم فوج کو دیدیا۔اور مولوی کو امیر کا فرمان گرفتاری دکھا کر کہا کہ اگر تجھ کو خوشی سے امیر کے پاس جانا ہے تو چل۔ور نہ زبر دستی پابز نجیر لے جانا پڑے گا۔اس مولوی نے انکار کیا اور اس کے ایک شاگرد نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے صاحب ہر گز نہیں جائیں گے۔حاکم نے صاحب کہنے والے کو 67