حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 68 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 68

تو نکلوا دیا اور مولوی کو ہتھکڑی لگا کر روانہ کیا۔جب حاکم چھاؤنی کے پاس پہنچا تو راستہ میں مولوی کے کچھ شاگر د ملے۔انہوں نے عرض کیا کہ آج رات مولوی صاحب کو ہمارے گھر میں ٹھہرنے کی اجازت دی جاوے۔کل چھاؤنی میں حاضر ہو جائیں گے۔حاکم نے ضمانت لے کر اجازت دیدی اور آپ چلے گئے۔صبح ہوتے ہی حاکم کو خبر پہنچی کہ مولوی بھاگ گیا ہے۔اندھیری رات تھی مولوی اونچے ٹیلہ پر بھاگ رہا تھا کہ ایک پتھر پر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی۔حاکم نے اعلان کیا کہ جو کوئی اس مولوی کو پکڑ کر لائے گا ایک سورو پیدا انعام پائے گا۔اس راستہ سے جس پر مولوی لنگڑ پڑا ہوا تھا کچھ چنگڑ خانہ بدوش جارہے تھے۔اپنے اونٹ پر سوار کر کے حاکم کے دربار میں لے آئے۔حاکم نے چھاؤنی میں مولوی کو قید کر دیا۔تو اس کے تمام عزیز اور شاگرد حال پوچھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔اس حالت میں مولوی نے اپنے استاد منٹر کی اور تمام اپنے ہم مشرب مولویوں کو اپنے قید ہونے کا حال لکھ دیا۔چونکہ اس کے بھی شاگرد اور ہم مشرب بہت تھے۔فوج بن کر چھاؤنی پر حملہ آور ہوئے۔حاکم تو بھاگ کر منگل قوم باغی میں جا ملا۔وہ چھاؤنی کو لوٹ کر مولوی کو چھڑا لے گئے۔جس وقت امیر عبد الرحمن خان کو خبر پہنچی۔شرندل خان کو جو امیر کا رشتہ دار تھا مع فوج کثیر کے خوست بھیج دیا کہ وہ باغیوں کو رعایا اور مطیع بنائے۔چنانچہ اس نے آکر بڑے رعب و داب سے تمام لوگوں کو حکومت میں لے لیا اور با امن رہنے کا سامان ہوا۔صاحبزادہ صاحب کی مجلس میں شرندل خان آنے جانے لگا اور آپ کے منہ سے حقائق و معارف کو سنا تو اس کے دل میں آپ کی بہت محبت پیدا ہوئی۔کبھی تو یہ صاحبزادہ صاحب کے پاس جاتا اور کبھی صاحبزادہ صاحب اس کے پاس جایا کرتے۔اس طرح بہت محبت پیدا ہوگئی اور شرندل خان نے ایک بچہ کی طرح آپ کے پاس پرورش پائی۔ان دنوں صاحبزادہ صاحب کے ایک شاگرد جج کیلئے روانہ ہوئے جب دہلی پہنچے تو کسی نے مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے متعلق بیان کیا اور تعریف و توصیف بھی کی تو ان کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ قادیان پہنچ کر تحقیق کرنی چاہئے۔پس قادیان پہنچ کر 68