حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 66 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 66

شیخان لوگوں سے نرمی اور محبت کا تعلق رکھنا شروع کیا۔یہ سب لوگ جو آتے تھے تو آپ ایک طرف تو دعوت شروع کر دیتے اور دوسری طرف قرآن وحدیث کا بیان کرتے۔تب ان شیخان میں سے ایک مولوی نے کہا کہ منٹر کی کے مولوی جو سوات صاحب کے مؤذن ہیں ان کے پاس جانا چاہئے۔وہ بہت اچھا اور بڑا مولوی ہے۔تب آپ اُس کی طرف روانہ ہوئے۔جگہ جگہ پر منٹر کی کے مولوی کے شاگرد تھے انہوں نے آپ کی بہت عزت کی اور بڑے خوش ہوئے کہ صاحبزادہ عبداللطیف اتنا بڑا آدمی بھی ہمارے پیر کا شاگرد ہونے آیا۔اور آپ اس لئے جارہے تھے کہ تا معلوم کریں کہ آیا شیخان لوگوں کے مولویوں کی طرح یہ بھی تعلیم دیتا ہے یا کوئی اچھا آدمی ہے۔پس آپ اس کے پاس پہنچ گئے۔آپ کے ساتھ مختلف قسم کے لوگ منٹر کی کو آئے۔یہ شیخان بہت سی قرآن اور حدیث کے خلاف تعلیم دیتے تھے۔قریبا ڈیڑھ سو ایسے مسائل تھے جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ پٹے رکھنا حرام ہے یعنی سر کے بال اور نسوار سوگھنی حرام ہے جس زمین میں نسوار کا درخت بویا جائے وہ پلید ہے۔دو تین سال تک اس کی فصل بھی حرام ہے۔نسوار لینے والے کی عورت بغیر طلاق کے مطلقہ ہو جاتی ہے۔آپ فرمانے لگے میں اس لئے اس پیر کے پاس آیا ہوں کہ تا کہ معلوم کرلوں کہ آیا یہ غلط فتوی دینے والے ہیں یا نہیں۔اور فرمانے لگے کہ جب میں اس پیر کے پاس آیا تو معلوم ہوا کہ یہ آدمی تو اچھا ہے یہ فتویٰ وہ خود نہیں بناتا کیونکہ اس کے منہ سے میں نے کوئی ایسی بات نہیں سنی جو شیخان مولویوں سے سنی جاتی تھی۔تب مجھے اس پر نیک گمان ہوا۔چند روز کے بعد صاحبزادہ صاحب اپنے ملک خوست واپس چلے آئے۔۔۔۔۔۔مٹر کی مولوی کا ایک شاگر د خوست میں بھی تھا جس کا نام الہ دین تھا۔صاحبزادہ صاحب نے حاکم کے پاس رپورٹ کی کہ خوست میں الہ دین نام مولوی مسٹر کی کا شاگرد ہے جھوٹے فتوے دیکر لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے اس کا انتظام کیا جاوے اور ایسے فتووں سے روکا جاوے۔صاحبزادہ صاحب علاوہ معززو نامی گرامی ہونے کے ایک فاضل اجل مانے جاتے 66%