حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 56
جائیں اور یہ سوال نہ کرے اور جواب دے تب ان پر کئی ہزار سوال ہوئے اور آپ سب کے اچھی طرح جواب دیتے رہے۔آخر یہ پوچھا کہ تم اس شخص کو جس نے مسیحیت کا دعوی کیا ہے کیا سمجھتے ہو۔آپ نے فرمایا کہ میں ان کو سچا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور اور اس زمانہ کا مصلح سمجھتا ہوں اور وہ قرآن شریف کے مطابق نازل ہوئے ہیں۔پھر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے بارہ میں سوال ہوا آپ نے جواب دیا کہ قرآن شریف ان کو مُردہ فرماتا ہے لہذا میں ان کو مُردہ سمجھتا ہوں۔تب انہوں نے کہا کہ یہ تو ملامت (یعنی مرتد ) ہو گیا ہے۔قرآن شریف مسیح کو زندہ ظاہر کرتا ہے اور یہ مُردہ وفات یافتہ مانتا ہے۔پھر سب مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا اور کہا اس کو سنگسار کیا جاوے۔امیر مولویوں سے ڈرتا تھا۔اور نئی نئی بادشا ہی تھی اس لئے امیر نے مولویوں کے حوالہ کر دیا اور باہر شہر کے مشرق کی طرف ہند و سوزاں ایک جگہ ہے اور وہاں سولی ہے لے گئے۔راستہ میں بہت جلد جلد اور خوش خوش جارہے تھے اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔راستہ میں ایک مولوی نے پوچھا کہ آپ اتنے خوش کیوں ہیں اور کیوں ایسی جلدی کر رہے ہیں۔ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیٹریاں ہیں اور ابھی آپ سنگسار ہونے کو ہیں۔آپ نے فرمایا یہ ہتھکڑیاں نہیں ہیں بلکہ محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا زیور ہیں۔اگر چہ سنگسار ہونے کی جگہ دیکھ رہا ہوں لیکن ساتھ ہی مجھے یہ خوشی ہے کہ میں جلد اپنے پیارے مولیٰ سے مل جاؤں گا۔جس وقت کچھ پتھر مارے گئے حاکم نے کہا اب بھی تو بہ کر لو میں چھوڑ دوں گا۔آپ نے فرمایا کہ تم شیطان ہو جو مجھے خدا کے راستہ اور حق سے روکتے ہو پس پھر وہاں مولویوں نے پتھر مار مار کر سنگسار کر دیا۔اس کے بعد ایسا ہوا کہ جب شہید مرحوم کو اپنے مقبرہ میں بعد سنگساری کے ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو میرو نام ایک ان کے شاگرد نے ارادہ کیا کہ ان کو اپنے گاؤں میں لے جا کر دفن کیا جاوے۔چنانچہ اس نے پوشیدہ طور پر ان کی لاش کو ان کے گاؤں میں لے جا کر دفن کر دیا اور نہ معلوم کی قبر بنائی۔لیکن خان عجب خان صاحب تحصیلدار نے کہا کہ شہید مرحوم کی قبر کو 56