حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 55 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 55

ہو کہ حاکم مجھے تکلیف دے۔انہوں نے کہا نہیں۔پھر کہا کیا تم چاہتے ہو کہ ہم سب گاؤں کو تکلیف پہنچے۔میں نے کہا تم نے تو اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔حاکم کو آگاہ کیا اور میں حاکم کے پاس سے ہو کر آیا ہوں پھر تم پر کوئی تکلیف نہیں۔پھر اس نے بہت اصرار کیا۔آخر اس وقت مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ اگر میں زمین کو حکم دیتا کہ ان کو پکڑلے تو ضرور پکڑ لیتی۔میں نے ان نمبر داروں سے کہا اچھا تم پکڑنے کے لئے راستہ میں بیٹھ جاؤ اور میں تمہارے پاس آتا ہوں اگر نہ آؤں تو میں اپنے باپ کا بیٹا نہیں ہوں۔اس کے بعد نمبر دار کو بھی میری حالت معلوم ہوئی اور میرے پاؤں پر گر پڑا کہ اس حالت میں ہمارے لئے بددعا نہ کرنا ہمیں معاف کر دو۔میں نے کہا معاف اس وقت ہوگا کہ تم مجھے اب پہاڑ کے پار چھوڑ آؤ تب میں راضی ہوں گا پس نمبر دار بمعہ تمام آدمیوں کے مجھے میرے تمام بال بچوں کے ساتھ سرحد سے پار لے آئے اور پھر میں نے ان کو وہاں سے واپس کر دیا اور ہم سب چل دیئے اور میں اپنے ساتھ شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ مولانا عبد اللطیف صاحب کے بال بطور نشانی کے اپنے ساتھ لایا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر دیئے اور آپ اس سے بہت خوش ہوئے اور شیشی میں بند کر کے بیت الدعامیں رکھ دیئے۔صاحبزادہ عبداللطیف شہید مرحوم بڑے عالم انسان اور ذی عزّت شخص تھے۔یہاں تک کہ آپ کو امیر کی طرف سے گیارہ سو روپیہ ملتے تھے اور ویسے آپ بڑی جائیدا در کھتے تھے اور اپنے علاقہ میں رئیس اعظم تھے۔لیکن آپ نے حق کو نہ چھوڑا اور یک لخت تمام کی تمام عزت جاہ و جلال اور دولت و حشمت اور مال و منال سب کچھ مسیح موعود پر خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔یہاں تک کہ جان بھی جو بہت عزیز تھی قربان کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام آپ کے بارہ میں فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں نہ آتا تو میری جگہ پر یہ آتا۔آپ کی سنگساری کا واقعہ یوں گزرا کہ جب آپ کی قید خانہ میں میعاد پوری ہوئی تو آپ کو شریعت کی طرف بلایا گیا اور مولویوں کو امیر کی طرف سے حکم ہوا کہ ان پر سوال کئے 55